آبنائے ہرمز بندش کا معاملہ، چین بھی میدان میں آگیا

فہرستِ مضامین

بیجنگ: چین نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کم کرنے کی حمایت کردی۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو تنازع کا پُرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔

وانگ یی نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ چینی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال خطے اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی پابندیوں اور مبینہ ناکہ بندی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پزشکیان نے کہا تھا کہ تمام ممالک کو آبنائے ہرمز سے استفادہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور ایران کو اس اہم سمندری راستے کے ذریعے اپنی تجارت تک رسائی سے محروم کرنا قابل قبول نہیں۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دشمن ممالک کے بحری بیڑوں کی مستقل موجودگی اور جنگ کا دائرہ وسیع کرنا امن کا راستہ نہیں، جبکہ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ایرانی عوام دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگ سے قبل اس سمندری راستے سے روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی بحری جہاز گزرتے تھے، جن میں تیل اور گیس بردار ٹینکرز کے علاوہ کنٹینر اور خشک مال بردار جہاز بھی شامل تھے۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار پر تہران اور واشنگٹن کے مؤقف میں اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں، تاہم سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق دیے گئے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔

ایرانی تجاویز میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کو ترجیح دی گئی ہے۔

یوں چین کی جانب سے مذاکرات پر زور اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اصرار کے درمیان خطے میں سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں