اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس اکاؤنٹ کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق […]
…لائیو کوریج
پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ اپنا نہیں مانتی، بیرسٹر گوہر
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس اکاؤنٹ کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی، جس کے دوران بیرسٹر گوہر علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا خالد یوسف چوہدری اور شمسہ کیانی سمیت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے بیرسٹر گوہر سے کہا کہ انہیں ذاتی حیثیت میں طلب نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ تحریری جواب بھی جمع کرا سکتے تھے۔
اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اس اکاؤنٹ کو اپنا تسلیم نہیں کرتی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی کہ موجودہ حالات تبدیل ہوچکے ہیں، اس لیے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت مناسب مہلت دے تو وہ اس معاملے پر تفصیلی جواب جمع کرا دیں گے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے بیرسٹر گوہر کی استدعا منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جو مؤقف پیش کرنا ہے، اسے تحریری طور پر عدالت میں جمع کرایا جائے۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 23 نومبر تک ملتوی کردی۔
عامر خان کے بھانجے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا حکم
ممبئی: بالی وڈ اداکار اور عامر خان کے بھانجے عمران خان کو بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں شرکت پر ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی پولیس نے اداکار کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی، جہاں مظاہرین کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاج میں شرکت کے بعد ممبئی پولیس نے اداکار کو حراست میں بھی لیا تھا۔
بھارتی پولیس کے مطابق عمران خان بھارتی شہری نہیں بلکہ امریکی شہری ہیں، تاہم ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ موجود ہے۔ پولیس نے احتجاج میں شرکت کے معاملے پر امیگریشن ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اداکار کو 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی مہلت دی گئی ہے۔ اس معاملے نے بالی وڈ حلقوں میں توجہ حاصل کرلی ہے، تاہم نوٹس کی قانونی بنیاد اور اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
سرخی کو مزید مختصر اور تجسس انگیز بنائیںخبر میں مبینہ اور منسوب زبان بڑھائیں
مدر آف آل بمز‘ کیا ہے؟ کیا امریکا اسے ایران پر گرائے گا؟
واشنگٹن: امریکی فوج ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے نئے فوجی منصوبوں پر غور کر رہی ہے، جن میں دنیا کے بڑے غیر جوہری بموں میں شمار ہونے والے ’مدر آف آل بمز‘ کا استعمال بھی شامل ہے۔ امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق، یہ آپشن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا حکم دیے جانے کی صورت میں زیرِ غور آسکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے سی این این کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی فوجی منصوبہ بندی سے واقف حکام کے مطابق، ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں اس طاقتور بم کے استعمال پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس بم کا استعمال جنگ میں شدت پیدا کرسکتا ہے، تاہم اس کی ممکنہ کامیابی اور امریکی فوجی مقاصد کے حصول میں اس کی افادیت کے حوالے سے سوالات بھی موجود ہیں۔ روئٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ سی این این کی اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔
’مدر آف آل بمز‘ کیا ہے؟
’مدر آف آل بمز‘ امریکی فوج کے طاقتور غیر جوہری بموں میں سے ایک ہے، جسے سرکاری طور پر جی بی یو-43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) کہا جاتا ہے۔
یہ ایک انتہائی طاقتور روایتی بم ہے، جسے بڑے زمینی اہداف اور وسیع علاقے میں تباہی پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس کا نام اور غیر معمولی تباہ کن صلاحیت اسے امریکی اسلحے کے نمایاں ترین ہتھیاروں میں شامل کرتی ہے۔
تاہم ایران کے خلاف اس بم کے ممکنہ استعمال سے متعلق رپورٹ میں کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی غیر یقینی
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا۔ اس کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی۔
جنگ روکنے کے لیے مختلف ممالک نے ثالثی کی کوششیں کیں اور مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی اور عبوری معاہدے کی کوشش بھی سامنے آئی، تاہم یہ انتظام برقرار نہ رہ سکا اور فریقین کے درمیان حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔
حالیہ صورتِ حال میں ایران نے عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند رکھا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات اور ایران جنگ
امریکا میں نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جارہا ہے۔
ایران جنگ، توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات امریکی سیاست میں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے سے حکمران جماعت کی انتخابی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم ہوجائے گی۔ تاہم امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کے ممکنہ منصوبوں سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ خطے میں کشیدگی کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات اٹھا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے خلاف ’مدر آف آل بمز‘ استعمال کرنے کا معاملہ فی الحال سی این این کی رپورٹ میں سامنے آنے والے ایک ممکنہ فوجی آپشن کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ اس کے استعمال کے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
حوثی ’ناقابلِ شکست بھوت بن سکتے ہیں: یمنی وزیرِ خارجہ
یمن: یمن کی وزیرِ خارجہ افراح الزوبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثی ملیشیا کو مزید وقت دیا گیا تو وہ ایک ایسی طاقت بن جائے گی جسے شکست دینا انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمنی حکومت اب حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات کی خواہش مند نہیں اور کسی بھی سیاسی عمل کے لیے سخت شرائط ضروری ہوں گی۔
بدھ کو ورچوئل پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افراح الزوبہ نے کہا کہ حوثیوں کو مزید وقت دینا انہیں دوبارہ منظم ہونے، اسلحہ جمع کرنے اور اپنی عسکری طاقت بڑھانے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔
ان کے بقول، اگر عالمی برادری نے اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو حوثی ایک ’ناقابلِ شکست بھوت‘ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ملیشیا کا خطرہ اب یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہارن آف افریقہ ت پھیل چکا ہے۔
یمن کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حکومت اس امید پر مزید انحصار نہیں کرسکتی کہ حوثیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرکے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ان کے مطابق ماضی میں امن کی کوششوں نے حوثیوں کو دوبارہ منظم ہونے، ہتھیار حاصل کرنے اور ریاستی اداروں پر حملے کرنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت نہ جنگ بندی کی اپیل کررہی ہے اور نہ ہی حوثیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش مند ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں کسی بھی جنگ بندی یا سیاسی عمل کے لیے ایسی شرائط طے کرنا ضروری ہوگا جن پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت
افراح الزوبہ نے اپنی بریفنگ کا آغاز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کے اہلِ خانہ اور سعودی حکومت سے تعزیت کے اظہار کے ساتھ کیا۔
رپورٹ کے مطابق حملے میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین، سوڈان اور بھارت کے شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
یمنی وزیرِ خارجہ نے اسی ہفتے عدن ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ حوثی ملیشیا اب صرف یمن کے داخلی تنازع کا فریق نہیں رہی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
ایران پر حوثیوں کی معاونت کا الزام
افراح الزوبہ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ حوثیوں کو اسلحہ، مالی وسائل، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کررہا ہے۔ ان کے مطابق تہران حوثیوں کو امریکا سمیت عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش خطرات اور سعودی عرب کی جانب سے تیل کی برآمدات کو مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کی طرف منتقل کیے جانے کے بعد باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ان کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر میں حملوں کے ذریعے عالمی تجارت اور سمندری راستوں کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی بحری آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کو بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔
ایران کی جانب سے حوثیوں کو مبینہ اسلحہ فراہمی کے شواہد پیش کرتے ہوئے انہوں نے 2013 میں ایرانی ہتھیاروں سے لدے مال بردار جہاز ’جہان 1‘ کی ضبطی اور 2025 میں حوثیوں کے لیے بھیجے جانے والے تقریباً 750 ٹن سامان اور ہتھیاروں کی برآمدگی کا حوالہ دیا۔ ان واقعات کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل نے کی تھیں۔
الزوبہ کے مطابق حوثی اب محض ایرانی عسکری مہارت سے فائدہ اٹھانے والے گروہ نہیں رہے بلکہ وہ خطے میں اس نوعیت کی مہارت اور سرگرمیوں کو آگے پھیلانے کی صلاحیت بھی حاصل کرچکے ہیں۔
حوثیوں کا نیٹ ورک افریقہ تک پھیلنے کا خدشہ
یمنی وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حوثی عسکری انجینئرز نے صومالیہ کا سفر کیا، جہاں الشباب کے جنگجوؤں کو دھماکہ خیز مواد کے استعمال، ڈرون میں تبدیلیوں اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال سے متعلق تربیت دی گئی۔
انہوں نے اس مبینہ پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کو یمن سے آگے افریقی خطے تک پہنچنے والا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اس صورتِ حال کے باعث ہارن آف افریقہ کی سلامتی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
ان کے مطابق بحیرہ احمر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے بین الاقوامی تجارت کا تقریباً 12 سے 15 فیصد حصہ منتقل ہوتا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں پر دباؤ عالمی جہاز رانی کے لیے سنگین نتائج پیدا کرسکتا ہے۔
’آپریشن ڈان آف یمن‘ کے تحت فوجی کارروائیاں جاری
افراح الزوبہ نے بتایا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے حکم پر 4 اکتوبر کو شروع کیا گیا ’آپریشن ڈان آف یمن‘ اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت جاری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آپریشن کا فیصلہ، کمان اور فوجی کارروائیاں یمنی قیادت کے زیرِ انتظام ہیں، جبکہ اتحادی شراکت دار یمنی حکومتی فورسز کو فضائی معاونت فراہم کررہے ہیں۔
ان کے مطابق العمالقہ بریگیڈز، نیشنز شیلڈ فورسز اور باقاعدہ یمنی فوج ایک متحد کمانڈ اور مشترکہ آپریشنز کمیٹی کے تحت کام کررہی ہیں۔ اتحادی ممالک کے ساتھ رابطوں کا مقصد یمنی فورسز کی مدد کرنا ہے، نہ کہ ان کی جگہ خود کارروائیاں کرنا۔
وزیرِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ حکومتی فورسز نے آبنائے باب المندب کے سامنے واقع اہم ساحلی مقامات کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے، جبکہ تعز، مأرب، حدیدہ اور مغربی ساحل کے علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ آسان نہیں، لیکن ان کے نزدیک اسے جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
تعز کا محاصرہ اور انسانی بحران
افراح الزوبہ نے الزام عائد کیا کہ حوثیوں نے 2022 سے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ذخیرہ کرنے کے ساتھ یمن کی تیل اور گیس کی برآمدی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں حکومت کو آمدنی کا نقصان ہوا۔
انہوں نے تعز شہر کے گنجان آباد علاقوں میں حوثیوں کے طویل محاصرے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی، ایندھن اور خوراک کی فراہمی میں رکاوٹوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔
ان کے مطابق گردوں کے سیکڑوں مریضوں کو ڈائیلاسز کی سہولت سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ حکومت نے اسپتالوں اور پانی کی تنصیبات کے لیے ایندھن کی فراہمی کی غرض سے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس سے رابطہ کیا ہے، جبکہ خوراک اور پانی کی ترسیل کے لیے نجی کمپنیوں سے بھی بات چیت جاری ہے۔
وزیرِ خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ تازہ کشیدگی کے بعد دو لاکھ 17 ہزار سے زیادہ یمنی شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے اور اقوامِ متحدہ کے 72 اہلکاروں کو حراست میں رکھنے پر بھی حوثیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکا اور یورپی یونین سے مزید اقدامات کا مطالبہ
افراح الزوبہ نے امریکا پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے مالی معاونین، جہاز رانی کے نیٹ ورکس، مبینہ فرنٹ کمپنیوں اور اسلحہ فراہم کرنے والوں کے خلاف پابندیوں کا دائرہ وسیع کرے۔
انہوں نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون بڑھائے۔ اس کے علاوہ یمنی فوج اور کوسٹ گارڈ کو انٹیلیجنس معلومات، تربیت اور ضروری سازوسامان فراہم کرنے کی اپیل بھی کی۔
ان کے مطابق تنازع کے کسی بھی حل میں حوثیوں کو ہتھیار ڈالنے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے مطابق شرائط پوری کرنے کا پابند بنانا ضروری ہے۔
لبنان میں حزب اللہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن ایسی صورتِ حال دہرانا نہیں چاہتا جس میں کوئی مسلح تنظیم ریاستی اداروں کے متوازی طاقت کا مرکز بن جائے۔
افراح الزوبہ نے اپنے مؤقف کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان تنازع دو مساوی قانونی اختیارات کے درمیان اختلاف نہیں، بلکہ ان کے بقول ایک ایسی مسلح ملیشیا کا معاملہ ہے جس نے طاقت کے ذریعے ریاستی اداروں اور علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی مبینہ معاونت، حوثیوں کے حملوں اور انسانی بحران سے متعلق یہ الزامات یمنی وزیرِ خارجہ کے بیان پر مبنی ہیں؛ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی توثیق، کیا معاملہ عدالت جائے گا؟
اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان کی کثرتِ رائے سے توثیق کردی گئی۔ تحریک کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 56 ووٹ ڈالے گئے، اس دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔
جمعرات کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے صدارتی فرمان کی توثیق کے لیے تحریک پیش کی۔
تحریک پر ووٹنگ کے دوران 214 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 56 ارکان نے مخالفت کی۔ اس طرح تحریک کثرتِ رائے سے منظور ہوگئی، تاہم اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے حکومتی اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔
اس سے ایک روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قراردادیں منظور کی گئی تھیں۔ قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان چار گھنٹے سے زائد بحث ہوئی، جس کے دوران اپوزیشن نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔
صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت فرمان جاری کیا
خیال رہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر خیبر پختونخوا کی صورتِ حال کے حوالے سے ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان جاری کیا تھا۔
ایوانِ صدر کے مطابق صدرِ مملکت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس کی منظوری دی تھی۔ حکومت نے اس اقدام کو صوبے کی سلامتی کی صورتِ حال سے جوڑا ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ جاری تھا اور پارٹی قیادت نے اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم حکومتی اقدام کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو ساتھیوں سمیت حراست میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ لانگ مارچ بھی ختم ہوگیا۔
پی ٹی آئی کا عدالتی کارروائی کا اعلان
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
صوبے میں وفاقی حکومت کے اس اقدام نے سیاسی اور پارلیمانی حلقوں میں بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر اختلافات پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں بھی نمایاں رہے۔
محسن نقوی کا مؤقف: ایمرجنسی آئین کے تحت نافذ کی گئی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا کے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی تھی، تاہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش کی گئی تمام چھ تجاویز تسلیم کرنے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے تحت کیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ فوج اور پولیس کے اہلکار دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جانیں قربان کررہے تھے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ان کے خلاف تقاریر کرتے تھے۔ ان کے مطابق حکومت نے سیاسی معاملات کو دہشت گردی سے منسلک نہیں کیا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایوان میں مذاکرات ہوئے اور بات چیت کا آغاز دہشت گردی کے معاملے سے کیا گیا تھا۔ اس دوران دہشت گردی سے متعلق سات سے آٹھ نکات پر گفتگو ہوئی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی فرمان کی توثیق کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عدالتی چیلنج کے اعلان کے بعد اس معاملے پر آئینی اور سیاسی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔
خبر کو مختصر اور تیز بنائیںتکرار کم کرکے متن سنواریںحکومتی اور اپوزیشن مؤقف متوازن کریں
پشاور میں قیامت خیز حادثہ، اسکول کی چھت گرنے سے 35 افراد ہلاک
پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے خاتون ٹیچر سمیت 35 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد بچے زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق ملبے تلے مزید بچوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ دیر کالونی میں واقع ایک نجی اسکول میں پیش آیا، جہاں چھت گرنے سے متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اب تک 27 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی لاشیں اسپتال لائی جاچکی ہیں، جبکہ 30 سے زائد زخمی بچوں کو بھی طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔ زخمی بچوں کی عمریں 11 سے 13 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمارت کے ملبے تلے مزید بچے دبے ہوسکتے ہیں۔ اسکول کی عمارت دو منزلہ بتائی جارہی ہے، تاہم امدادی ٹیمیں ملبے کی تلاش میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات
حادثے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ اسکول کی عمارت انتہائی تنگ گلیوں میں تعمیر کی گئی تھی، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ان کے مطابق اسکول میں مجموعی طور پر تقریباً 110 بچے زیرِ تعلیم تھے۔ واقعے کے وقت مختلف کلاسوں میں بچے موجود تھے، جبکہ چھت گرنے کے نتیجے میں متعدد طلبہ ملبے تلے دب گئے۔
سی سی پی او نے بتایا کہ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ انتہائی تنگ گلی میں اسکول کی عمارت کیسے تعمیر کی گئی اور آیا اس کی تعمیر کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت نامہ یا این او سی حاصل کیا گیا تھا یا نہیں۔
فیصل کریم کنڈی اور مریم نواز کا اظہارِ افسوس
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی جائیں۔ گورنر نے حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی افسوسناک حادثے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی ہے۔ انہوں نے زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوگوار والدین کے دکھ کو سمجھ سکتی ہیں۔