لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آسٹریا سے لندن پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ ان کے اسٹاف کے ارکان بھی لندن پہنچے ہیں، جہاں وہ تقریباً ایک ہفتہ قیام کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری بھی تقریباً 48 گھنٹے قبل آسٹریا […]
…لائیو کوریج
صدر زرداری کے بعد بلاول بھٹو بھی لندن پہنچ گئے
لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آسٹریا سے لندن پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ ان کے اسٹاف کے ارکان بھی لندن پہنچے ہیں، جہاں وہ تقریباً ایک ہفتہ قیام کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری بھی تقریباً 48 گھنٹے قبل آسٹریا سے لندن پہنچ چکے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے لندن قیام کے دوران قریبی دوستوں سمیت بعض برطانوی وزراء سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات سمیت دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔
چین اور مصر کی قربتیں بڑھنے لگیں، مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن؟
قاہرہ: چینی صدر شی جن پنگ کا مصر کا دورہ بظاہر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے، تاہم اس دورے کو مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اس ہفتے مصر کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
عرب نیوز کے مطابق چین، جو امریکہ کے بڑے عالمی حریفوں میں شمار ہوتا ہے، مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین خود کو خطے میں استحکام کی طاقت کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر شی جن پنگ کی کوشش ہے کہ چین کو مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کیا جائے جو اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط کے ذریعے استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے برعکس امریکہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی طور پر فعال رہا ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی نے خطے میں طاقت کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
شی جن پنگ منگل کی شام قاہرہ پہنچے، جہاں مصری حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ قاہرہ ایئرپورٹ کو چینی اور مصری پرچموں سے سجایا گیا تھا، جبکہ صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی اعزاز کے ساتھ چینی صدر کا استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات بدھ کو طے ہے، جبکہ شی جن پنگ مصر کے عظیم میوزیم کا بھی دورہ کریں گے، جو اہرامِ جیزہ کے قریب واقع ہے۔
یہ چینی صدر کا تقریباً دس سال بعد مصر کا پہلا دورہ ہے، جبکہ 2022 میں سعودی عرب کے دورے کے بعد مشرق وسطیٰ کا ان کا یہ اہم ترین سفر قرار دیا جا رہا ہے۔
چین اور مصر کے سفارتی تعلقات کے 70 سال
چین اور مصر اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے صدور نے منگل کو مصر کے سرکاری اخبارات میں خصوصی مضامین بھی تحریر کیے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ بیجنگ اور قاہرہ کو ترقی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے عملی شراکت داری کے دائرے کو مزید وسیع کرنا چاہیے۔
دوسری جانب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مصر میں چینی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تائیوان سے متعلق چین کے مؤقف کی حمایت بھی دہرائی۔
مصر چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو اپنی خارجہ اور اقتصادی شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بڑھتی تجارت
چین اور مصر کے اقتصادی تعلقات گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔
2023 میں مصر کو برکس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
بعد ازاں مصر اور چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے کے معاہدے کیے۔
رپورٹس کے مطابق چین نے مصر میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں قاہرہ کے مشرق میں قائم ہونے والا ایک بڑا کاروباری مرکز اور نائل ڈیلٹا میں صنعتی ریلوے منصوبے شامل ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو چین اور مصر کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
چین کا مشرق وسطیٰ میں سفارتی کردار
چین گزشتہ چند برسوں سے مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں سفارتی کردار بھی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
2023 میں بیجنگ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا، جسے چین کی علاقائی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
چین اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دو ریاستی حل کی بھی حمایت کرتا ہے۔ بیجنگ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی میزبانی کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان بھی کیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور نہر سویز کی بڑھتی اہمیت
ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے درمیان مصر کے زیر انتظام نہر سویز کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کے لیے مصر کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھنے کی ایک اہم وجہ نہر سویز بھی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
دفاعی تعاون میں بھی اضافہ
چین اور مصر صرف اقتصادی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دفاعی تعاون کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔
اگست میں دونوں ممالک نے متعدد فضائی اڈوں پر مشترکہ جنگی مشقیں کیں، جن میں چین کے جے-16 لڑاکا طیاروں اور مصر کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں نے حصہ لیا۔
صدر شی جن پنگ کا دورۂ مصر ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین عالمی اور علاقائی سطح پر اپنی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری چین کی وسیع تر مشرق وسطیٰ پالیسی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بیجنگ خطے میں ایک اہم سیاسی اور اقتصادی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایران پر امریکی پابندیوں اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے اور بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کی تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔
تنازعات کا حل مذاکرات میں ہے، پاکستان کا ایران اور امریکہ پر زور
اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک سے رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بدھ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مثبت توقع ہے کہ دونوں فریق تنازعات کے حل کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔
طاہر اندرابی کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے گزشتہ ماہ دورۂ تہران کے بعد آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات میں پیش رفت اور سفارتی سرگرمیوں میں خاصی تیزی آئی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی فوج نے بدھ کو اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملوں کی تازہ کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، جس میں پاسداران انقلاب ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو ایران اور امریکہ دونوں پر زور دیا تھا کہ وہ مفاہمتی یادداشت پر خلوص نیت کے ساتھ عمل درآمد کریں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
تل ابیب کا تہران کو دوٹوک پیغام، حملے کا سخت جواب دیا جائے گا
تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کا اسرائیل بھرپور اور طاقتور جواب دے گا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ایرانی کارروائی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنی تیاریاں کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل پر ہونے والے ہر حملے کا سخت اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔
کسی سے آزاد ہو کر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کاٹز
اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس وقت اسرائیل، آبنائے ہرمز اور توانائی کی سلامتی سے متعلق امریکی مفادات کے پیش نظر ایران کے خلاف کارروائیوں میں واشنگٹن کو مرکزی کردار ادا کرنے دے رہا ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل کو براہ راست نشانہ بنایا تو تل ابیب کسی بھی دوسرے فریق سے آزاد ہو کر اپنی پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔
یسرائیل کاٹز نے کہا، “اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ہم پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گے اور اس معاملے میں کسی دوسرے فریق کے فیصلے کے پابند نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا اور اب تل ابیب ایران کی جانب سے جوہری سرگرمیوں کی بحالی کی کسی بھی کوشش پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدت
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان عسکری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے تقریباً 100 مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں زیادہ تر اہداف پاسداران انقلاب سے متعلق تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیوں میں پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، بحری ڈھانچے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بینسٹ نے ایران پر معاشی دباؤ اور پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران کا میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب
امریکی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے کویت، بحرین، اردن اور عراق کی سمت ڈرونز اور میزائل داغے، تاہم اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر کو راستے میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
اس سے قبل امریکی ذرائع نے بتایا تھا کہ واشنگٹن نے تل ابیب کو ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے اور کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد اسرائیل کو بھی کشیدگی نہ بڑھانے کے لیے کہا گیا تھا، تاہم تل ابیب اس مفاہمت سے مطمئن نہیں تھا۔
بعد ازاں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے باعث یہ مفاہمت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور خطے میں ایک مرتبہ پھر عسکری کشیدگی بڑھ گئی۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک، 6 اہلکار شہید
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دو مختلف کارروائیوں کے دوران 21 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں 2 افسران اور کسٹمز کے ایک اہلکار سمیت 6 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ اور پشین زیارت کراس میں کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چاغی کے علاقے نوکچہ میں دہشتگردوں نے کوئٹہ، تفتان قومی شاہراہ این 40 پر مسافروں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے اور بھتہ خوری کے لیے غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی۔
سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اسی رات دہشتگردوں نے کسٹمز ہاؤس پر قبضے کی کوشش میں حملہ کیا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں مزید 10 دہشتگرد مارے گئے۔
بیان کے مطابق فرار ہونے والے دہشتگردوں کا بھی تعاقب کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید دہشتگرد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 2 افسران اور کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار سمیت 6 اہلکار شہید ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کسٹمز ہاؤس پر حملہ دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جس کا مقصد کسٹمز حکام کو قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنا اور علاقے میں جاری غیر قانونی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔
میر رضا کیس: گولی سے موت کی تصدیق، خودکشی کا مؤقف مشکوک ہوگیا
کراچی: میر رضا کیس میں قبرکشائی کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ تحقیقاتی ٹیم کو موصول ہوگئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میر رضا کی موت گولی لگنے کے باعث ہوئی جبکہ دستیاب شواہد خودکشی کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق میر رضا کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مفاد عامہ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسری پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ کے نتائج عوام کے سامنے لائے جارہے ہیں۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور اس میں سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔ رپورٹ کی تیاری قبرکشائی کے بعد کیے گئے کیمیائی تجزیے، فارنزک رپورٹس اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک سامنے آنے والے تمام شواہد میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے بعد کیس کی تحقیقات نئے شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جائیں گی۔