قاہرہ: چینی صدر شی جن پنگ کا مصر کا دورہ بظاہر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے، تاہم اس دورے کو مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اس ہفتے مصر کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
عرب نیوز کے مطابق چین، جو امریکہ کے بڑے عالمی حریفوں میں شمار ہوتا ہے، مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین خود کو خطے میں استحکام کی طاقت کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر شی جن پنگ کی کوشش ہے کہ چین کو مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کیا جائے جو اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط کے ذریعے استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے برعکس امریکہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی طور پر فعال رہا ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی نے خطے میں طاقت کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
شی جن پنگ منگل کی شام قاہرہ پہنچے، جہاں مصری حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ قاہرہ ایئرپورٹ کو چینی اور مصری پرچموں سے سجایا گیا تھا، جبکہ صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی اعزاز کے ساتھ چینی صدر کا استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات بدھ کو طے ہے، جبکہ شی جن پنگ مصر کے عظیم میوزیم کا بھی دورہ کریں گے، جو اہرامِ جیزہ کے قریب واقع ہے۔
یہ چینی صدر کا تقریباً دس سال بعد مصر کا پہلا دورہ ہے، جبکہ 2022 میں سعودی عرب کے دورے کے بعد مشرق وسطیٰ کا ان کا یہ اہم ترین سفر قرار دیا جا رہا ہے۔
چین اور مصر کے سفارتی تعلقات کے 70 سال
چین اور مصر اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے صدور نے منگل کو مصر کے سرکاری اخبارات میں خصوصی مضامین بھی تحریر کیے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ بیجنگ اور قاہرہ کو ترقی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے عملی شراکت داری کے دائرے کو مزید وسیع کرنا چاہیے۔
دوسری جانب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مصر میں چینی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تائیوان سے متعلق چین کے مؤقف کی حمایت بھی دہرائی۔
مصر چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو اپنی خارجہ اور اقتصادی شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بڑھتی تجارت
چین اور مصر کے اقتصادی تعلقات گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔
2023 میں مصر کو برکس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
بعد ازاں مصر اور چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے کے معاہدے کیے۔
رپورٹس کے مطابق چین نے مصر میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں قاہرہ کے مشرق میں قائم ہونے والا ایک بڑا کاروباری مرکز اور نائل ڈیلٹا میں صنعتی ریلوے منصوبے شامل ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو چین اور مصر کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
چین کا مشرق وسطیٰ میں سفارتی کردار
چین گزشتہ چند برسوں سے مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں سفارتی کردار بھی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
2023 میں بیجنگ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا، جسے چین کی علاقائی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
چین اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دو ریاستی حل کی بھی حمایت کرتا ہے۔ بیجنگ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی میزبانی کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان بھی کیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور نہر سویز کی بڑھتی اہمیت
ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے درمیان مصر کے زیر انتظام نہر سویز کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کے لیے مصر کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھنے کی ایک اہم وجہ نہر سویز بھی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
دفاعی تعاون میں بھی اضافہ
چین اور مصر صرف اقتصادی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دفاعی تعاون کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔
اگست میں دونوں ممالک نے متعدد فضائی اڈوں پر مشترکہ جنگی مشقیں کیں، جن میں چین کے جے-16 لڑاکا طیاروں اور مصر کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں نے حصہ لیا۔
صدر شی جن پنگ کا دورۂ مصر ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین عالمی اور علاقائی سطح پر اپنی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری چین کی وسیع تر مشرق وسطیٰ پالیسی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بیجنگ خطے میں ایک اہم سیاسی اور اقتصادی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایران پر امریکی پابندیوں اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے اور بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کی تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔