بھارت میں 123 سالہ موسمیاتی تاریخ کا گرم ترین اگست

فہرستِ مضامین

نئی دہلی: بھارت میں رواں سال اگست کا مہینہ موسمی ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا گرم ترین اگست قرار دیا گیا ہے، جہاں ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق 1901 سے موسمیاتی ریکارڈ مرتب کیے جانے کے بعد رواں سال اگست میں ملک کا اوسط درجہ حرارت بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اگست کا اوسط درجہ حرارت طویل المدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال اگست نے اس سے قبل قائم ہونے والا ریکارڈ بھی توڑ دیا، جب 2023 میں اگست کا اوسط درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مون سون کی کم بارشوں سے گرمی میں اضافہ

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق بارشوں میں کمی کے پیچھے ال نینو کے موسمیاتی اثرات بھی ایک اہم وجہ قرار دیے جا رہے ہیں۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارش کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔

بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا میں ال نینو کے اثرات کے باعث اکثر خشک اور گرم موسم دیکھنے میں آتا ہے، جس سے گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے خطرات میں اضافہ

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو کے اثرات پہلے ہی فوسل فیول کے استعمال کے باعث بڑھتی ہوئی عالمی گرمی کے ساتھ مل کر شدید موسمی حالات کو مزید خطرناک بنا سکتے ہیں۔

دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل بھارت شدید گرمی کے خطرات سے خاص طور پر متاثر ہونے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہروں کی تعداد اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ حالیہ برسوں کے دوران بھارت کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں جنوبی ایشیا کو مزید شدید گرمی، خشک سالی اور غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں