سندھو دیش کا نعرہ غداری نہیں، نیا صوبہ بنانا غداری ہے: خالد مقبول

فہرستِ مضامین

ڈیلس: ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبے کی بات کو غداری قرار دیا جاتا ہے جبکہ سندھو دیش کا نعرہ لگانے والوں پر ایسی بحث نہیں ہوتی۔

امریکا کے شہر ڈیلس میں اسٹینڈ ود پاکستان کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک میں نئے صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی ضروریات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق قائم کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں نئے اضلاع اور ڈویژنز قائم کیے جا سکتے ہیں تو نئے صوبوں کے قیام پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ میں نئے صوبے کی بات کو غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے، جبکہ سندھو دیش کا نعرہ لگانے کے معاملے کو اسی انداز میں نہیں دیکھا جاتا۔

کراچی کے وسائل اور اختیارات کا معاملہ

ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ کراچی قومی اور صوبائی معیشت میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا شہر ہے، لیکن شہر کے وسائل پر کراچی کے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں ایک طبقہ بجٹ تیار کرتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے خرچ کرتا ہے، جبکہ مردم شماری کے دوران بھی کراچی کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔

پاکستان کا بڑا مسئلہ ٹرسٹ ڈیفیسٹ ہے

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کو صرف معاشی مشکلات کا سامنا نہیں بلکہ ملک کا اصل مسئلہ ٹریڈ ڈیفیسٹ سے زیادہ ٹرسٹ ڈیفیسٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کسی حکومت کو سہارا دے سکتا ہے لیکن ملک کو نہیں بچا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات وفاق سے صوبوں تک تو منتقل ہوئے، تاہم یہ اختیارات عوام کی سطح تک نہیں پہنچ سکے۔

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ پاکستان طاقت کے زور پر نہیں بلکہ انصاف اور مساوی حقوق کی بنیاد پر مضبوط اور متحد رہ سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں