سیالکوٹ ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) جمعہ کے روز چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سکھ برادری کو یقین دلایا کہ سیلاب سے متاثرہ کرتارپور گوردوارہ اور دیگر مذہبی مقامات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف عاصم منیر نے سیالکوٹ سیکٹر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں شکرگڑھ، نارووال، اور کرتارپور کا دورہ کیا، تاکہ جاری امدادی سرگرمیوں اور مون سون کی اگلی لہر کے لیے تیاریوں کا جائزہ لے سکیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اقلیتوں اور ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ ریاست اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہے، اور ریاستِ پاکستان اپنی اس ذمہ داری کو ہر صورت نبھائے گی۔
سیالکوٹ سیکٹر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آرمی چیف کی آمد پر سکھ برادری نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ سکھ برادری نے آفت کے اس موقع پر سول انتظامیہ اور پاک فوج کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔
آرمی چیف نے دربار صاحب کرتارپور کا فضائی جائزہ لیا
آرمی چیف نے دربار صاحب کرتارپور کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے سول انتظامیہ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران آرمی چیف نے اُن کی بروقت کارروائیوں کو سراہا جن سے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم کرنے میں مدد ملی۔
فوجی جوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان کے بلند حوصلے، عملی تیاری اور قوم کی خدمت کے جذبے کی تعریف کی۔ انہوں نے چیلنجنگ حالات میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے دوران عوام کی خدمت پر فوجی جوانوں کو سراہا۔
دورے کے دوران آرمی چیف کو موجودہ صورتِ حال اور بارش کی اگلی لہر سے نمٹنے کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں عوام کی امداد کے لیے پاک فوج اور سول انتظامیہ کی مشترکہ اور انتھک کاوشوں کو سراہا۔
پاکستان میں شدید مون سون
پاکستان اس وقت شدید مون سون بارشوں کا سامنا کر رہا ہے جس سے ندی نالوں میں طغیانی، دریاؤں میں پانی کی سطح بلند اور ڈیم بھر چکے ہیں۔ جون کے آخر سے اب تک 800 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
اس شدید بارش کے دوران بھارت نے اپنے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑا، جس سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو گئی۔ این ڈی ایم اے کے مطابق، پاکستان نے دریائے راوی، ستلج اور چناب جو بھارت سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں کے قریبی دیہاتوں سے 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
گزشتہ روز پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت نے اتوار سے تیسری مرتبہ سیلابی انتباہ جاری کیا ہے، اس بار ستلج کے لیے، جبکہ پہلے دو وارننگز راوی میں داخل ہونے والے پانی سے متعلق تھیں۔کرتار پور راہداری زیر آباد
کرتار پور راہداری زیر آب
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے اور دریائے راوی میں سیلاب سے کرتار پور کوریڈور زیر آب آگیا تھا ، سیلابی پانی گوردوارہ کرتار پور دربارمیں بھی داخل ہوگیا تھا۔
تاہم انتظامیہ کے مطابق کرتارپور کے احاطے سے پانی مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے، درشن ڈیوڑھی، مرکزی چیک پوائنٹ اور استقبالیہ کیبن سمیت تمام اہم مقامات کو پانی سے صاف کرکے دوبارہ قابل استعمال بنادیا گیا ہے۔