آرٹ سے تبدیلی نہیں آتی، تبدیلی لانے کے لیے سیاست میں آیا ہوں: ذوالفقار علی بھٹو جونیئر

فہرستِ مضامین

کراچی (رپورٹ: منظور چانڈیو) سابق وزیراعظم پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور شہید  میرمرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کہا ہے کہ آرٹ یا این جی اوز معاشرے میں تبدیلی نہیں لا سکتے، اس لیے وہ تبدیلی لانے کے لیے سیاست میں آئے ہیں۔

انہوں نے یہ بات کراچی میں سندھ کی نایاب نسل مچھلی انڈس ڈولفن (بلھن)  کے تحفظ سے متعلق ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی، ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ میں نے کچھ سال آرٹسٹ کے طور پر کام کیا اور مختلف این جی اوز کے ساتھ بھی وابستہ رہا۔

ذوالفقار جونیئر  نے کہا کہ جب میں 2020 میں سندھ آیا اور دریائے سندھ اور یہاں کے لوگوں کی حالت دیکھی تو میرے خیالات بدل گئے۔ مجھے یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ آرٹ یا  این جی اوز لوگوں کے حالات تبدیل نہیں کر سکتے، یہ پالیسی ہے جو تبدیلی لا سکتی ہے اور پالیسی سیاست سے بنتی ہے۔

بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو  پیپلزپارٹی کی تحریک  کا سافٹ چہرہ تھیں

مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے ذوالفقار جونیئر نے دعویٰ کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور ان کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے  دو  تحریکیں چلائیں، بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو  جمہوریت کی بحالی والی پرامن تحریک کا سافٹ چہرہ تھیں۔

جونیئر نے مزید کہا کہ  میرے والد مرتضیٰ بھٹو اور شہید شاہنواز بھٹو آمریت کے خلاف مزاحمتی جدوجہد کا سخت گیر چہرہ تھے، دونوں کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ تھا جمہوریت کی بحالی، اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔

شہید بابا نے بینظیر بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ  سمجھوتہ کرنے سے روکا اور یہیں سے اختلافات پیدا ہوئے

ذوالفقار بھٹو جونیئر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور میرے والد کے درمیان اختلافات اس وقت پیدا ہوئے جب بینظیر بھٹو نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ قبول کیا اور اسٹیبلشمنٹ  کے ساتھ  سمجھوتہ کیا۔ میرے والد نے بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ قبول نہ کریں۔

شہید بابا نے ان کو کہا کہ وقت آئے گا کہ یہ لوگ خود آپ کو  وزارت عظمیٰ کا عہدہ دیں گے،  لیکن بینظیر نے ان کی بات نہیں مانی۔

ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ
اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر میرے والد کو وطن واپس آنے سے روکا گیا،  میرے والد کو روکنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کی قیادت نے بھی رکاوٹیں ڈالیں۔

سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا

ذوالفقار جونیئر نے بتایا کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اور اس کا وہ مختلف مواقع پر اظہار بھی کر چکے ہیں، لیکن جب سندھ میں نہروں کی تعمیر کا متنازع منصوبہ سامنے آیا تو وہ متحرک ہو گئے۔

 جونیئر نے کہا کہ یہ ایک احمقانہ منصوبہ ہے، جن لوگوں نے یہ منصوبہ بنایا،  وہ شاید دریائے سندھ سے واقف ہی نہیں ہیں۔

ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ سندھ کے لوگوں نے انہیں بے پناہ محبت دی،  لیکن وہ جانتے ہیں کہ عوام کی محبت کا مطلب ووٹ نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یہ بات سمجھ میں  آ گئی کہ تبدیلی لانے کے لیے سیاست میں آنا ضروری ہے، وہ موروثی سیاست کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں، لیکن ان کے خاندان کے نام کو جس طرح کرپشن، عوام کی تباہی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، اس نے انہیں سیاست میں آنے کے لیے مجبور کردیا۔

فاطمہ بھٹو میری سیاسی استاد ہے

ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ ان کی بہن فاطمہ بھٹو بچپن سے ہی ان کی سیاسی استاد رہی ہیں،  انہوں نے کہا کہ جب ہم  گاڑی میں اسکول جاتے تھے تو فاطمہ مجھے فلسطین اور کیوبا کی عوامی تحریکوں اور انقلابات کے بارے میں بتایا کرتی تھی۔

جونیئر نے  بتایا کہ سندھ میں نایاب نسل  ڈولفن (بلھن) کے تحفظ کے لیے انہوں نے ایک تنظیم قائم کی اور مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر کام بھی کیا، کینال منصوبے کے خلاف تحریک کے دوران ان کا فاطمہ بھٹو سے مسلسل رابطہ رہا، اور ان کی اجازت اور مشورے سے ہی انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ فاطمہ بھٹو بھی جلد وطن واپس آئیں گی اور ان کا ساتھ دیں گی، اور مناسب وقت آنے پر وہ دونوں اپنی نئی سیاسی جماعت کا اعلان کریں گے، جونیئر نے کہا کہ  وہ دو چیزوں پر  کبھی سمجھوتا نہیں کر سکتا، ایکدریائے سندھ کے پانی اور دوسرا صوبوں کی خودمختاری پر ۔

پیپلزپارٹی شہید بھٹو میں اصلاحات پر مزاحمت ہوئی

ذوالفقار علی جونیئر نے  انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنے والد شہید مرتضیٰ بھٹو کی جماعت پیپلزپارٹی شہید بھٹو میں اصلاحات لاکر اسے دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی، لیکن پارٹی کے اندر انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے بتایا کہ اب جب وہ نئی جماعت بنانے کا اعلان کر چکے ہیں تو پی پی پی شہید بھٹو اندر سے ان پر مزید دباؤ آ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اس دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن اس کی تفصیلات فی الحال نہیں بتائیں گے۔

 جونیئر نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو میں ہونے والی مزاحمت کے بارے میں انہوں نے اپنی بہن  فاطمہ بھٹو کو آگاہ کیا اور پھر دونوں نے علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا۔

شادی کے سوال پر قہقہے

ڈبلیو ٹی این نیوز نے ذوالفقار جونیئر سے جب یہ  پوچھا کہ وہ شادی کب کریں گے؟ تو وہ زور زور سے ہنسنے لگے، شرماتے ہوئے انہوں نے کہا  جب بھی شادی کروں گا، آپ کو ضرور دعوت دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بہن فاطمہ بھٹو پارٹیوں کی حامی نہیں، لیکن شادی پر بڑی پارٹی کریں گے اور سب کو مدعو کریں گے، ولیمے کی تقریب بھی کریں گے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں