آسیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حصول میں پاکستان کو محدود شراکت داری کا چیلنج

فہرستِ مضامین

آسیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لیے پاکستان کی کوششیں اس کی محدود “سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر” حیثیت کی وجہ سے شدید رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ جب تک پاکستان کو “فل ڈائیلاگ پارٹنر” کا درجہ حاصل نہیں ہوتا، وہ آسیان کے ساتھ باضابطہ تجارتی معاہدے کی طرف پیش رفت نہیں کر سکتا۔

پاکستان کو 1993 میں آسیان کی جانب سے سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے تحت دو طرفہ تعلقات کا آغاز ہوا۔ گزشتہ برسوں میں دونوں فریقین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی پر کئی اجلاس منعقد ہوئے۔ تاہم، 2010 میں آسیان-پاکستان جوائنٹ سیکٹورل کوآپریشن کمیٹی (APJSCC) کے اجلاس میں پیش کردہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔

ایک اہم رکاوٹ سنگاپور کی مخالفت ہے، جو پاکستان کو “فل ڈائیلاگ پارٹنر” کا درجہ دینے کے خلاف ہے — جو آسیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بات چیت کے لیے ضروری ہے۔

آسیان نے چین، جاپان، بھارت، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا جیسے فل ڈائیلاگ پارٹنر ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کر رکھے ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود، پاکستان آسیان ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

حال ہی میں APJSCC کے اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں تجارت، سائنس، انسانی وسائل کی ترقی، اور ڈیجیٹل معیشت پر تعاون کو بڑھانے کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔

پاکستان نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے انفرادی آسیان ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا شروع کیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ملائیشیا، انڈونیشیا، اور تھائی لینڈ کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کر چکا ہے، جبکہ ویتنام، کمبوڈیا اور فلپائن کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

ویتنام کے ساتھ مجوزہ پریفرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ (PTA) اور سنگاپور و منیلا میں پاکستانی تجارتی مشنز، پاکستان کے اقتصادی اور سیاسی روابط کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں — جو مستقبل میں فل ڈائیلاگ پارٹنرشپ اور آسیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں