اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج کے نام پر بار بار ہونے والی کشیدگی کا سلسلہ ختم کرنے کا پالیسی فیصلہ کیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر سخت ردعمل دیا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ کسی کو احتجاج کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے انتظامات کیے گئے ہیں اور سڑکوں کے اطراف کنٹینرز بھی رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پسِ پردہ رابطے جاری ہیں، تاہم باضابطہ مذاکرات لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق کسی کو اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔ تاہم 25 ستمبر کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی میں ہمت ہے تو لانگ مارچ کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی ہے اور خیبر پختونخوا حکومت پر بھی کالعدم تنظیموں کی سہولت کاری کے الزامات عائد کیے۔
عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کو تحریک طالبان پاکستان کی “بی ٹیم” اور افغان طالبان کی “سی ٹیم” قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر بھی سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ صوبے میں غیر قانونی کان کنی کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ یہ الزامات حکومتی مؤقف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 ستمبر کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدیدار کو وفاقی دارالحکومت میں عوامی سڑکیں یا راستے بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔ عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی ہدایت کی تھی کہ احتجاج کیلئے سرکاری وسائل اور مشینری استعمال نہ ہونے دی جائے۔
لانگ مارچ کے تناظر میں وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں 20 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 تک رینجرز کی تعیناتی کی منظوری بھی دی تھی۔
یوں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ دونوں جانب سے احتجاج، مذاکرات اور امن و امان سے متعلق سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔