ڈبلیو ٹی این اردو ڈاٹ کام کراچی
سندھ کے دارالحکومت کراچی کی عدالت نے اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کے واقعے کا لگ بھگ دو ماہ کے بعد مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ 8 جولائی کو اداکارہ حمیرا اصغر کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں ایک فلیٹ مردہ حالت میں ملی تھی، پولیس حکام نے بتایا تھا کہ اداکارہ کی موت تقریباََ 6 سے آٹھ ماہ قبل ہوئی۔
کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ میں ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کے مبینہ قتل سے متعلق مقدمہ درج کرنے کی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
درخواستگذار عبدالاَحد ایڈووکیٹ نے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حمیرہ اصغر کی موت 7اکتوبرکو ہوئی اور ان کا موبائل فون فروری 2025 تک استعمال ہوا، جبکہ حمیرا اصغر کا واٹس ایپ ڈیلیٹ ہوا۔
درخواستگذار کے مطابق فون کھلا تھا میک اپ آرٹسٹ کا فون اٹینڈ نہیں ہوا، اس فون کے بعد وٹس ایپ ڈی پی بھی ڈیلیٹ کردی گئی، حمیرا اصغر کے میک اپ آرٹسٹ کوبھی بلایاجائے۔
درخواست کے مطابق پولیس رپورٹ میں واش روم اور کمرے سے خون کے نمونے لینے کا ذکرہے، حمیرا اصغر کوقتل کیا گیا ہے، ایف آئی آردرج کرنےکاحکم دیاجائے۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ حمیراصغر کے بھائی اور دیگر کو تفتیس میں شامل کرنے کا حکم دیا جائے۔

مقدمہ درج کرنے کا حکم
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے درخواستگذار کے وکیل کے دلائل سنے کے بعد ماڈل و اداکارہ حمیرہ اصغر کے مبینہ قتل کیس کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل اور پولیس رپورٹ کا جائزہ لیا ہے، دستیاب ریکارڈ کی روشنی قابل دست اندازی جرم بنتا ہے، حکم دیا جاتا ہے کہ حمیرا اصغر کے اہلخانہ یا ریاست کی مدعیت میں بیان ریکارڈ کرکے مقدمہ درج کیا جائے ۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ 8 جولائی کو اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ڈیفنس فیز 6 میں اس فلیٹ سے ملی تھی جہاں وہ 7 سال سے مقیم تھی۔
ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے بتایا تھا کہ اداکارہ نے 2018ء میں فلیٹ کرائے پر لیا تھا اور وہ 2024ء سے کرایہ نہیں دے رہی تھیں۔
کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں مالک مکان نے کیس کیا تھا، بیلف آیا تو دروازہ بند تھا، دروازہ نہ کھلنے پر توڑا گیا تو کمرے میں زمین پر خاتون کی لاش پڑی تھی۔
لاش وصول کرنے سے انکار
اداکارہ حمیرا اصغر کے پراسرار موت کی خبر کے بعد ان کے والد نے لاش وصول کرنے سے انکار کردیا تھا، بعد ازاں ان کے بھنوئی اور بھائی نے لاش وصول کی تھی۔
حمیرا اصغر کے والد کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے حمیرا سے تمام تعلقات ختم کر لیے تھے، اس لیے اب ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس نے ان سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔
اداکارہ کے ورثاء کی جانب سے لاش وصول کرنے سے انکار پر سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ اداکارہ کی تدفین حکومت سندھ کریگی اور اس کے اخراجات محکمہ ثقافت و سیاحت برداشت کرگے، جس کے بعد گورنر سندھ نے بھی ایسا ہی اعلان کیا تھا۔