کراچی ( رپورٹؒ: صدام کولاچی ) ارکان کی تنخواہ ساڑھے چار لاکھ روپے ماہانہ مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس منظوری کا فیصلہ سندھ اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے کیا، جس کی صدارت اسپیکر اویس قادر شاہ نے کی۔
اسپیکر اویس قادر شاہ نے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کے معاملے کو ایک خصوصی کمیٹی کے سپرد کیا تھا، جس نے بعد میں تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دی۔
کمیٹی کے اجلاس میں سندھ کے وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار کے علاوہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، اور جماعت اسلامی کے حمایتی ارکان نے شرکت کی، تاہم جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے تنخواہوں میں اضافے کی مخالفت کی۔
تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل
رواں ماہ پارلیمانی امور کے وزیر ضیاء الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی میں سِیلریز اینڈ الاؤنسز بل 2025 پیش کیا تھا، جس میں ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ تجویز کیا گیا تھا۔
اس بل کو اسپیکر اویس قادر شاہ نے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دی اور یہ بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا تھا۔ اسمبلی میں موجود تمام حکومتی و اپوزیشن ارکان نے اس کی حمایت کی اور کسی نے مخالفت نہیں کی بلکہ بل کی تائید میں سب نے اپنی نشستوں پر ڈیسک بجائے۔
بعد ازاں اسپیکر نے بل کو سندھ کابینہ اور پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کیا، جہاں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے فوری طور پر اس کی منظوری دی۔ اب یہ بل دوبارہ سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی منظوری کے بعد تنخواہوں اور مراعات میں باقاعدہ اضافہ نافذ ہو گا۔
مراعات میں بھی نمایاں اضافہ
صرف تنخواہوں ہی نہیں، بلکہ ارکان اسمبلی کو دی جانے والی دیگر مراعات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے بل کے مطابق قائدِ ایوان، اسپیکر اور قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) سمیت تمام ارکان کی تنخواہیں اور مراعات بڑھا دی گئی ہیں۔
خاص طور پر اپوزیشن لیڈر کو ایک صوبائی وزیر کے مساوی تمام سہولیات اور مراعات دی جائیں گی۔ یہ تمام تبدیلیاں یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گی۔
پارلیمانی کمیٹی نے ارکانِ اسمبلی کی تنخواہ میں تین لاکھ روپے اضافے کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل ارکان کی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے تھی، جو اب ساڑھے چار لاکھ روپے ہو گئی ہے۔
پنجاب اسمبلی کی طرز پر تنخواہیں
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب اسمبلی میں بھی ارکان کی تنخواہوں میں غیرمعمولی اضافہ مریم نواز کے وزیرِاعلیٰ بننے کے بعد کیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر سندھ کے ارکان نے اپنی تنخواہوں اور مراعات کو پنجاب کے برابر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جو اب پورا کر دیا گیا ہے۔ اب پنجاب اور سندھ اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔
سبسڈی، گاڑیاں اور الاونسز
اگرچہ حکومت یا پارلیمانی کمیٹی نے دیگر مراعات جیسے الاؤنسز، سبسڈی، یا دیگر سہولیات کی تفصیلات جاری نہیں کیں، لیکن اس سے قبل اسمبلی میں پیش کیے گئے بل میں ارکان کو درج ذیل مراعات دینے کا ذکر کیا گیا تھا
منظور شدہ بل کے مطابق، اپوزیشن لیڈر کو صوبائی وزیر کے برابر تنخواہ، الاؤنس اور دیگر سہولیات دی جائیں گی۔ یہ تمام سہولیات سندھ منسٹرز سِیلریز، الاؤنسز اینڈ پرِیولیجز ایکٹ 1975 کے تحت فراہم کی جائیں گی۔
بل میں یہ بھی ذکر ہے کہ اسمبلی کی کسی سلیکٹ یا اسپیشل کمیٹی کے علاوہ دیگر کمیٹیوں کے چیئرمین کو ایک سے زائد سرکاری گاڑیاں نہیں دی جائیں گی۔ انہیں صرف ایک کار ملے گی جو ان کے عہدے کی مدت تک ان کے زیرِ استعمال رہے گی۔
گاڑی کے پیٹرول اور مینٹیننس کا خرچ کمیٹی کی سفارش پر دیا جائے گا، لیکن دیکھ بھال کی ذمہ داری چیئرمین کی ہو گی۔ عہدہ چھوڑنے کے تین دن کے اندر گاڑی واپس کرنا لازم ہوگا۔
وزیروں کی تنخواہوں میں دیگر صوبوں سے موازنہ
بلوچستان اسمبلی نے دس سال قبل، یعنی اکتوبر 2014 میں ارکان کی تنخواہ 4 لاکھ 40 ہزار روپے مقرر کی تھی۔ اس وقت سندھ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں بالترتیب 1 لاکھ 45 ہزار اور 1 لاکھ 60 ہزار روپے کے درمیان تھیں۔
اسی سال فروری میں سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز کی تنخواہوں میں بڑا اضافہ کیا تھا ، جس کے بعد ایم این ایز اور سینیٹرز کی تنخواہ 1 لاکھ 80 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی۔
وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں بھی اضافہ
مئی 2025 میں صدر آصف علی زرداری نے ایک آرڈیننس جاری کیا، جس کے تحت وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تنخواہیں بھی 5 لاکھ 19 ہزار روپے مقرر کی گئیں، جو ایم این ایز اور سینیٹرز کے برابر ہیں۔
اس سے پہلے وفاقی وزیروں کی تنخواہ 2 لاکھ روپے اور وزرائے مملکت کی تنخواہ 1 لاکھ 80 ہزار روپے تھی۔عوامی اور اپوزیشن کی شدید تنقید کے بعد ایم این ایز کی تنخواہ کو کم کر کے 5 لاکھ 16 ہزار روپے کیا گیا۔