فلسطین کے مقبوضہ علاقے غزہ پر مسلسل بمباری کے ذریعے صحافیوں، عالمی اداروں کے رضاکاروں اور فلسطینوں کو نشانہ بنانے والے نتن یاہو کے اپنے ملک اسرائیل میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔
ایران کے خبر رساں ادارے (ارنا) کے مطابق مظاہرین نے شاہراہوں کو بند اور وسیع اجتماعات کرکے غزہ جنگ کو ختم، قیدیوں کے تبادلے اور نتن یاہوکی کابینا کو گرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے خبر رساں ادارے ارنا نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ صیہونی حکومت کے اپوزیشن رہنما یائیر لاپید نے انہیں میں سے ایک احتجاجی اجتماع میں شرکت کی تھی اور کہا تھا حماس کو کمزور کرنے کا واحد حل اور طریقہ نتن یاہو کی نالائق اور شرپسند حکومت کا خاتمہ ہے۔
آفیشل کیمپ نام کے دھڑے کے سربراہ بنی گانٹس کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے گھروالوں کی نتن یاہو کے مقابلے میں حمایت اتحاد اور تقویت کا باعث ہے۔
اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گاڈی آئیزنکوٹ نے وزیر اعظم نتن یاہو کو ملک کی قیادت کے لیے نااہل قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ صیہونی وزیر اعظم اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو اسرائیل کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوگیا ہے۔
’ حماس کو ختم کرنے تک جنگ ختم نہیں ہوگی ‘
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے ان مظاہروں کے رد عمل میں اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کا خاتمہ حماس کو ختم کیے بغیر ناممکن ہے، جو لوگ ایسا چاہتے ہیں وہ حماس کی تقویت، قیدیوں کی رہائی میں خلل اور 7 اکتوبر (طوفان الاقصی) جیسے واقعات کو دوہرانے کا بن رہے ہیں۔

تاہم صیہونی آبادکاروں کا کہنا ہے کہ نتن یاہو کو سب سے زیادہ اسرائیل کی عدالتوں میں دائر ان کے خلاف مالی اور سیاسی بدعنوانی کے مقدمات سے خطرہ ہے، نتن یاہو ان مقدمات کو روکنے کے لیے یا تو جنگ کا نیا محاذ کھول دیتے ہیں یا پھر طبیعت ناساز ہونے کا بہانہ کرکے کورٹ سیشن سے غائب ہوجاتے ہیں۔
نتن یاہو کا غزہ پر مکمل کنٹرول کا خواب
اس سے قبل اسرائیل کی سکیورٹی کاؤنسل نے وزیر اعظم نتن یاہو کے غزہ پٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور فوجی کارروائیوں میں تیزی لانے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے اس فیصلے پر برطانیہ، ایران، چین، گالف ممالک کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا، یورپی ممالک نے اقوامِ متحدہ سے نوٹس لینے اور نتن یاہو کے اس فیصلے کو تباہ کن قرار دیا تھا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسرائیلی وزیر اعظم کے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے کو انسانیت کا قتل قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ نتن یاہو کے ارداے بتا رہے رہیں کہ وہ فلسطین سے مسلمانوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا، پاکستان غزہ کے معصوم شہریوں کی اخلاقی حمایت جار رکھے گا۔