اسرائیل میں نتن یاہو کے گرد گھیرا تنگ،جنگ کے خلاف ہزاروں شہریوں کا احتجاج، ’’غزہ بچوں کاقبرستان بن چکا ہے‘‘۔

فہرستِ مضامین

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کو غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے اور فوجی کارروائیاں تیز کرنے کے خلاف انہیں اپنے ہی ملک کے عوام کی مخالفت کا سامنا ہے۔

اسرائیل میں ایک بار پھر ہزاروں افراد نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کیا اور حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے سے باقی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

اسرائیل کے سابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے سینچر کے روز وزیر اعظم بینامن نتن یاہوسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک قومی اتحاد حکومت تشکیل دیں جس میں حزب اختلاف کی شخصیات بھی شامل ہوں اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کریں۔

گانٹز نے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے بنا ایک عارضی اتحاد بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے معاہدے پر بات ہو سکے، انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا پہلا اور سب سے اہم فرض ’’یہودیوں اور تمام شہریوں کی جان بچانا ہے‘‘۔

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت انتہائی دائیں بازو کے ارکان کی حمایت پر منحصر ہے جو جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کے ساتھ معاہدے کے مخالف ہیں، لیکن حزب اختلاف اور دیگر شہری اس جنگ کے خلاف ہیں۔

یاد رہے کہ نتن یاہو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت شروع کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن شرط یہ کہ معاہدہ ’’اسرائیل کے مطالبات پر پورا اترے‘‘۔

اسرائیل تباہ کن فیصلے کر رہا ہے

اس سے قبل اسرائیل نے غزہ شہر پر اپنے متنازع حملے اور قبضے کے لیے دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو بلانے کی اجازت دی تھی، یہ وہ جگہ ہے جہاں آئی پی سی کے مطابق قحط جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ حماس کو شکست دینے، جنگ کے خاتمے اور غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے غزہ سٹی پر قبضہ بہترین آپشن ہے۔

نتن یاہو کے اس فیصلے سے غزہ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مقیم ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کر دیا جائے گا، اسرائیل طبی اور امدادی ایجنسیوں کو پہلے ہی علاقہ خالی کرنے کا کہہ چکا ہے۔

یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت اقوام متحدہ کی متعدد تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اس کے عام شہریوں کے لیے مزید تباہ کن نتائج ہوں گے جہاں قحط کے حالات پہلے سے موجود ہیں۔’

غزہ کے بچوں کے لیے بھی وہی جذبات دکھایں نہ

ترکی کی خاتون اول نے میلانیا ٹرمپ کو خط لکھا ہے جس میں ان پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ سے متاثرہ بچوں کے لیے بھی ویسے ہی جذبات کا مظاہرہ کریں جیسا انھوں نے جنگ میں مارے گئے یوکرینی بچوں کے لیے کیا تھا۔

ایمن اردوغان نے یوکرین پر روس کے حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے بچوں کے لیے امریکی خاتون اول کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی بھی ’وکالت کریں۔‘

سنیچر کے روز ترک ایوان صدر سے شائع ہونے والے ایک خط میں ایمن اردوغان کا کہنا تھا کہ غزہ ’بچوں کا قبرستان‘ بن چکا ہے۔ انھوں نے امریکی خاتونِ اول پر زور دیا کہ: ’ہمیں مل کر اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی ماہرین کے اندازوں کے مطابق غزہ شہر میں تقریباً پانچ لاکھ افراد قحط کا شکار ہیں جبکہ غذائی قلت سے 132,000 بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

ایمن اردوغان اپنے خط لکھتی ہیں کہ غزہ کے ہزاروں بچوں کے کفنوں پر لکھا ’نامعلوم بچہ‘ کا جملہ ہمارے ضمیروں پر ایک ایسے زخم کی مانند ہے جس کا مداوا نہیں ہو سکتا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں