اسرائیل کا غزہ میں ہسپتال پر حملا، 5 صحافیوں سمیت 20 افراد شہید

فہرستِ مضامین

غزہ ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ) غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنوبی غزہ کے نصر میڈیکل کمپلیکس پر اسرائیلی حملے میں 5 صحافیوں سمیت کم از کم 20 افراد شہید ہو گئے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ڈبل ٹیپ نوعیت کا تھا، یعنی پہلے میزائل مارا گیا، اور پھر چند لمحوں بعد دوسرا حملہ اس وقت کیا گیا جب ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی تھیں۔

حملے میں شہید ہونے والوں میں الجزیرہ کے فوٹو گرافر محمد سلام، رایٹرز نیوز ایجنسی سے وابسطہ فوٹو جرنلسٹ حسام المصری، مختلف اداروں بشمول دی انڈیپنڈنٹ عربی اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے وابستہ صحافی معاذ ابو تہہ شامل ہیں۔

القدس فیڈ نیٹ ورک اور دیگر اداروں سے منسلک صحافی احمد ابو عزیز بھی  حملے میں زخمی ہونے کے بعد شہید ہو گئے۔

غزہ میں صحافی نشانے پر

غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر نے بیان میں کہا ہے کہ یہ صحافی اس وقت شہید ہوئے جب اسرائیلی قابض افواج نے نصر اسپتال کے احاطے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر حملہ کر کے ایک ہولناک جرم کا ارتکاب کیا۔ ہم اس وحشیانہ جرم کے لیے مکمل طور پر اسرائیلی ریاست، امریکی انتظامیہ، اور اس نسل کشی میں شامل ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کو ذمے دار ٹھہراتے ہیں

خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ حسام المصری کی جانب سے چلائی جا رہی لائیو ویڈیو فیڈ حملے کے وقت اچانک بند ہو گئی۔

الجزیرہ نے کہا ہمارے شہید صحافیوں کا خون ابھی خشک بھی نہیں ہوا تھا کہ اسرائیل نے ایک اور جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے محمد سلامہ اور دیگر فوٹو جرنلسٹوں کو شہید کر دیا۔

الجزیرہ نے مزید کہا کہ وہ 23 ماہ سے جاری اسرائیلی نسل کشی کی مسلسل کوریج جاری رکھے ہوئے ہے، باوجود اس کے کہ غزہ میں بین الاقوامی میڈیا پر مکمل پابندی عائد ہے۔

محمد سلامہ نے گزشتہ سال فلسطینی صحافی ہالہ اسفور سے شادی کی تھی، مریم ابو دقہ ایک 12 سالہ بیٹے کی ماں تھیں، جسے جنگ کے ابتدائی دنوں میں غزہ سے نکالا گیا تھا۔

پچھلے حملے اور صحافیوں کی شہادتوں کا تسلسل

یہ حملہ دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے جب معروف الجزیرہ صحافی انس الشریف اور ان کے چار ساتھی الشفا اسپتال کے سامنے اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔ انس کو غزہ کی آواز کہا جاتا تھا۔ اس واقعے کے بعد غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد کم از کم 273 ہو گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے صرف اتنا کہا کہ اس نے “نصر اسپتال کے علاقے میں حملہ کیا، لیکن حملے کے مقصد یا ہدف کی وضاحت نہیں کی۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ فوج صحافیوں کو بطور ہدف نہیں بناتی” — تاہم اس دعوے پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے

عالمی سطح پر مذمت

الجزیرہ کی صحافی ہند خوداری نے کہا کہ ہم کب تک اپنے ساتھی صحافیوں کی شہادت کی خبر دیتے رہیں گے؟ ہم اسپتالوں سے رپورٹنگ کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں بجلی، انٹرنیٹ تک رسائی نہیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے جدید تاریخ میں کسی بھی تنازع میں اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں کی ہلاکت نہیں ہوئی جتنی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں ہوئی ہے۔

پس منظر

اسرائیل نے جنگ کے دوران درجنوں اسپتالوں پر حملے یا چھاپے مارے ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ جنگجو وہاں سے کارروائی کرتے ہیں، لیکن ابھی تک اس کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

22 ماہ سے جاری جنگ میں اسرائیل پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات ہیں، جس میں اب تک 62,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یؤاف گالانت کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں