غزا ( ویب ڈیسک ) غزہ میں بھوک کے باعث مزید 2 فلسطینی جاں بحق ہوگئے، اب تک بھوک سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 273 ہو چکی ہے، اقوام متحدہ نے جنگ کے بعد پہلی بار غزہ میں قحط کی تصدیق کردی۔
کسی علاقے میں قحط پڑنے کا فیصلہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن نامی اقوام متحدہ کے پیمانے کا استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 71 فلسطینی شہید جبکہ دو افراد بھوک سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، اب تک بھوک سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 273 ہو چکی ہے، جن میں 112 بچے شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ غذائی تحفظ کی نگرانی کرنے والے ادارے نے غزہ میں بھوک سے 273 ہلاکتوں کے بعد قحط ڈکلیر کردیا ہے۔
برطانوی خبر رسان ادارے بی بی سی کے مطابق انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے اس کی درجہ بندی کو پانچویں مرحلے تک بڑھا دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ میں حالات شدید غذائی عدم تحفظ کے پیمانے کی بلند ترین اور بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
آئی پی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ گورنریٹ، جس میں غزہ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے شامل ہیں، میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے اور ستمبر کے آخر تک دیر البلاح اور خان یونس تک ’تباہ کن حالات‘ پھیلنے کا امکان ہے۔
غزہ میں 5لاکھ سے زائد افراد کو موت کا سامنہ

غذائی تحفظ کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تنظیم، جو خود سرکاری طور پر قحط کا اعلان نہیں کرتی تاہم گزشتہ ماہ اس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ ‘غزہ کے رہنے والوں کو قحط کی بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو ’بھوک، غربت اور موت‘ کا سامنا ہے۔ تاہم اسرائیل کا آئی پی سی کی اس رپورٹ پر کہنا ہے کہ وہ اس میں سامنے آنے والے نتائج کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے آئی پی سی کے جائزے کو یکطرفہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ’غزہ میں وسیع پیمانے پر انسانی ہمدردی کی کوششوں‘ کو نظر انداز کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جب غزہ کے تشویش ناک حالات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں بچے تو ایسے میں ایک نیا لفظ سامنے آجاتا ہے جیسے کہ اب ہوا ہے، اب جو لفظ یا سامنے آیا ہے وہ ’قحط‘ کا ہے۔
انسانیت کی ناکامی
انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی معمہ نہیں ہے بلکہ یہ اخلاقی گراوٹ اور اور خود انسانیت کی ناکامی ہے، انہوں نے کہا کہ قحط صرف خوراک کا نہیں ہے بلکہ انسانی بقا کے لیے درکار نظام اور ایسے اداروں کا بھی ہے کہ جو ان حالات میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی واضح ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔انھوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال کو بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

رفاہ میں آئی پی سی کا کہنا ہے کہ اس علاقے کا تجزیہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پٹی کے جنوب میں واقع یہ علاقہ اب ’بڑے پیمانے پر غیر آباد ہے۔ اپنی رپورٹ میں آئی پی سی نے آئندہ مہینے یعنی ستمبر کے دوران غزہ کی پٹی میں سامنے آنے والے حالات سے متعلق بھی پیش گوئی کی ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے آئی پی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے حماس کی جعلی مہم کو پورا کرنے کے لیے ایک من گھڑت رپورٹ شائع کی ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قحط کا سامنا کرنے والوں کی حد کو 30 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کر دیا اور ساتھ ہی ’شرح اموات کے دوسرے معیار کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا، اسرائیل کی جانب سے سامنے آنے والے ان الزامات کو آئی پی سی کی جانب سے مسترد کیا گیا ہے۔
غزہ شہر کو تباہ کرنے کی دھمکی
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر حماس نے غیر مسلح ہونے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تو غزہ شہر کو تباہ کر دیا جائے گا۔

اسرائیل کاٹز کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب اسرائیلی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر پر بڑے پیمانے پر حملے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔
پیر کے روز حماس نے قطر ی اور مصری ثالثوں کی جانب سے 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر رضامندی ظاہر کی تھی جس میں قطر کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ غزہ میں باقی اسرائیلی یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کیا جائے گا۔