اسلام آباد احتجاج سے پہلے حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات شروع

فہرستِ مضامین

اسلام آباد کی جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ لانگ مارچ اور احتجاج کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں ہونے والے اجلاس میں دونوں جانب سے اہم رہنما شریک ہیں۔

اپوزیشن وفد میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا شامل ہیں۔

حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری سمیت اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، رانا ثناء اللہ اور امیر مقام شریک ہیں۔

مذاکرات کا مقصد سیاسی کشیدگی کم کرنا اور پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کرنا بتایا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پی ٹی آئی قیادت سے باضابطہ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے 4 اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی کال دی گئی تھی۔

احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ ریڈ زون کے داخلی راستوں سمیت شہر کے مختلف مقامات پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات ہے۔

اس سے ایک روز قبل ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و استحکام اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

حکومت اور پیپلز پارٹی نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ اسی اجلاس میں کیا تھا، جس کے تحت دونوں جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ وفد نے پی ٹی آئی قیادت سے بات چیت شروع کی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں