اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کی مبینہ نسل کشی کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے، جہاں 9 اکتوبر کو مردہ کتوں سے بھری ایک گاڑی کا واقعہ زیر سماعت آیا۔ عدالت نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن سے باقاعدہ جواب طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہو گیا کہ کتوں کو مارنے کا حکم سرکاری حکام کی جانب سے دیا گیا تھا، تو ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
عدالت میں ایک عینی شاہد خاتون نے بیان ریکارڈ کروایا کہ انہوں نے 9 اکتوبر کو سی ڈی اے آفس کے قریب ایک گاڑی دیکھی جس میں درجنوں مردہ کتے موجود تھے۔ عدالت نے ان کا بیان مقدمے کا حصہ بنا لیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے واضح کیا کہ جانوروں کے ساتھ اس قسم کا سلوک غیر انسانی ہے، اور عدالت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے ہوگی۔