کابل ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) افغانستان کے ایک دور دراز اور پہاڑی علاقے میں شدید زلزلے اور متعدد جھٹکوں کے بعد سینکڑوں مکانات منہدم ہو گئے، جس کے نتیجے میں 800 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ طالبان حکام کے مطابق، پیر کے روز بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری تھا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلہ سطح زمین سے محض 8 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا اور اس کا مرکز ننگرہار صوبے کے شہر جلال آباد سے 27 کلومیٹر دور تھا۔
ننگرہار اور کنڑ صوبے پاکستان کے ساتھ سرحد پر واقع ہیں، جہاں طورخم بارڈر سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین واپس آ چکے ہیں، جن کے پاس اکثر روزگار یا رہائش کی سہولت نہیں ہوتی۔
زلزلے کی شدت اور مقام
زلزلہ رات گئے آیا، جس کے جھٹکے کابل سے لے کر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے۔ ابتدائی زلزلے کے بعد پانچ جھٹکے مزید آئے، جن میں سب سے شدید جھٹکا 5.2 شدت کا تھا جو رات 4 بجے کے قریب آیا۔
زلزلے سے جانی و مالی نقصان
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق، زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ مشرقی صوبہ کنڑ میں 800 سے زائد افراد جاں بحق اور 2,500 زخمی ہوئے۔ ننگرہار میں مزید 12 افراد جاں بحق اور 255 زخمی ہوئے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے بتایا کہ بہت سے مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں اکثر لوگ کچے اور مٹی کے مکانوں میں رہتے ہیں جو زلزلے کی صورت میں آسانی سے گر جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق، کنڑ کے کئی شدید متاثرہ دیہات تک سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے رسائی ممکن نہیں۔افغان سرکاری خبر رساں ایجنسی بختار نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے حوالے سے بتایا کہ نورگل، چوکئی، واتاپور، منوگئی، اور چپہ درہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔
افغان حکام کے مطابق کنڑ صوبے میں تین دیہات مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے جبکہ دیگر علاقوں میں بھی وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
ریسکیو آپریشن
طالبان حکام اور اقوام متحدہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ وزارت دفاع کے مطابق، اب تک 40 فضائی پروازیں (فلائٹ سورٹیز) کی جا چکی ہیں۔
کنڑ کے ضلع نورگل کے زراعت کے محکمے کے ایک ملازم اعجاز الحق یاد نے بتایا کہ لوگ سڑکیں کھولنے کے لیے خود نکلے تاکہ متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن ہو۔ “خوف و ہراس کی کیفیت تھی، بچے اور خواتین چیخ رہے تھے، ہم نے اپنی زندگی میں ایسا منظر نہیں دیکھا۔”
ان کا کہنا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ کئی خاندان وہی افغان مہاجرین ہیں جو حالیہ برسوں میں ایران اور پاکستان سے وطن واپس آئے ہیں اور یہاں نئے سرے سے زندگی شروع کر رہے تھے۔
عالمی برادری کی مذمت اور مدد
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، انہوں نے کہا کہ میں افغان عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔
یورپی یونین نے سابق ٹوئٹر ایسک پر بیان میں کہا کہ ہم افغانستان کے کنڑ اور ننگرہار میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے انسانی ہمدردی کے شراکت دار متاثرہ افراد کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کابل سمیت پاکستان کے کئی حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ سینکڑوں جانیں ضائع ہو گئیں اور دیہات تباہ ہوئے، ہماری دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ پاکستان ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا کی اور کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔
افغانستان اور زلزلوں کی تاریخ
افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں، جو یوریشیائی اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے۔اکتوبر 2023 میں مغربی صوبہ ہرات میں 6.3 شدت کے زلزلے سے 1,500 سے زائد افراد جاں بحق اور 63,000 مکانات تباہ یا متاثر ہوئے تھے۔
جون 2022 میں پکتیکا صوبے میں 5.9 شدت کے زلزلے نے 1,000 سے زائد افراد کی جان لے لی تھی اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے تھے۔
گزشتہ چار دہائیوں کی جنگ سے تباہ حال افغانستان پہلے ہی شدید انسانی بحرانوں کا شکار ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر ملکی امداد میں کمی آ گئی ہے، جس سے آفات سے نمٹنے کی صلاحیت مزید کمزور ہو گئی ہے۔