پشاور: نو منتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغان پالیسی پر نظرثانی ناگزیر ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متعلقہ علاقوں کے مشران کو اعتماد میں لینا ہوگا۔
اسمبلی میں قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے مشکور ہیں جنہوں نے ایک عام ورکر کو یہ موقع دیا، جس کا نہ کوئی بھائی، نہ باپ اور نہ چچا سیاست میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرچی کے ذریعے وزیر اعلیٰ نہیں بنے بلکہ محنت اور ایمانداری سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ سب سے پہلے پاکستانی ہیں، پھر پختون اور قبائلی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے فوری اقدامات شروع کریں گے اور خود کو احتجاجی سیاست کا چیمپئن تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں، نہ گاڑیاں ہیں، نہ پیسے، نہ بنگلے اور نہ کرسی کی لالچ۔
نومنتخب وزیراعلیٰ نے کہا کہ افغان پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے، جہاں دہشتگردی ہے وہاں کے مقامی عوام، پارلیمنٹیرین اور مشران کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ ان کے بقول عوام اور ان کے نمائندوں سے مشورہ کیے بغیر اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔