انٹل کے سی ای او سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے ٹرمپ نے کمپنی کا 10 فیصد خرید لیا

فہرستِ مضامین

واشنگٹن ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) امریکی حکومت نے معروف چِپ ساز کمپنی انٹل میں 8.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے کمپنی کا تقریباً 10 فیصد حصہ حاصل کر لیا ہے۔

اس معاہدے کے بعد امریکی حکومت نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نمایاں قدم اٹھایا ہے، جس کا مقصد امریکا میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

یہ اقدام سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا، جنہوں نے اس معاہدے کو امریکہ کے لیے ایک شاندار سودا قرار دیا، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ میری بہت بڑی عزت کی بات ہے کہ میں آپ کو یہ اطلاع دوں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا اب انٹل کمپنی کے 10 فیصد حصص کی مکمل مالک ہے۔

 امریکی حکومت نے 433.3 ملین حصص کی خریداری کی ہے، ہر حصہ 20.47 ڈالر میں خریدا گیا، اس سرمایہ کاری کے لیے فنڈز ( چپس اینڈ سائنس ایکٹ اور محفوظ انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت فراہم کیے گئے۔

5.7 ارب ڈالر چپس ایکٹ سے 3.2 ارب ڈالر محکمہ دفاع کے محفوظ پروگرام سے، یہ سرمایہ کاری مکمل طور پر (پیسو) کی شکل میں ہے، یعنی حکومت نے نئی رقم نہیں دی بلکہ پہلے سے مختص گرانٹس کو حصص میں تبدیل کیا گیا ہے۔

یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟

یہ معاہدہ امریکہ کو سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں عالمی سطح پر لیڈر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ فی الحال دنیا کے زیادہ تر جدید چپس تائیوان میں تیار کیے جاتے ہیں، جس پر جغرافیائی کشیدگی کے باعث انحصار خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

انٹل ان چند امریکی کمپنیوں میں سے ہے جو امریکہ میں ہی جدید چپ ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کرتی ہے۔ اس وقت کمپنی امریکی ریاست اوہائیو اور ایریزونا میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ پلانٹس قائم کر رہی ہے۔

انٹل کے سی ای او کا موقف

انٹل کے سی ای او کا موقف ہے کہ ہم اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی امریکہ میں ہی بنے۔ یہ سرمایہ کاری ہماری صلاحیتوں کو مستحکم کرے گی، انہوں نے بتایا کہ حکومت کو انٹل کے بورڈ میں کوئی نشست حاصل نہیں ہوئی۔

سی ای او کے مطابق حکومت کو کوئی فیصلہ سازی کا اختیار یا اندرونی معلومات تک رسائی حاصل نہیں، یہ صرف ایک سرمایہ کاری ہے، انتظامی اختیار نہیں۔

اس کے علاوہ، حکومت کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ اگر انٹل کی فاؤنڈری بزنس میں اس کا حصہ 51 فیصد سے کم ہو جائے، تو وہ مزید 5 فیصد حصص خریدنے کا حق رکھتی ہے۔

فیصلا کیوں ضروری تھا

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے چینی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور امریکی کمپنیوں کو اندرونِ ملک پیداوار بڑھانے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں امریکی عوام کو ان کی سرمایہ کاری کا فائدہ دینا چاہیے۔ یہ معاہدہ انٹل کے لیے بھی اچھا ہے اور امریکہ کے لیے بھی۔

یہ معاہدہ اس وقت کیا گیا جب ٹرمپ نے چند ہفتے قبل انٹل کے سی ای او لب بو تان سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا تھا، جن پر چین سے روابط کے الزامات لگائے گئے تھے۔ بعد ازاں، وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد یہ اختلاف ختم ہوا اور یہ معاہدہ طے پایا۔

مارکیٹ کا رد عمل

اس اعلان کے بعد انٹل کے حصص کی قیمت میں 5 سے 7 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ سرمایہ کاری انٹل کے لیے استحکام کا باعث بنے گی، جو حالیہ برسوں میں TSMC اور Nvidia جیسے حریفوں سے پیچھے رہ گئی ہے۔

خدشات اور تنقید

انٹل نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حکومت کی ملکیت عالمی سطح پر خاص طور پر چین میں اس کی فروخت کو متاثر کر سکتی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی کاروباری اداروں میں شمولیت آزاد منڈی کی روح کے خلاف ہے اور مستقبل میں دیگر کمپنیوں پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی نظیر قائم کر سکتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید امریکی کمپنیوں میں اسی طرح کی سرکاری سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر ان صنعتوں میں جو قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں، جیسے سیمی کنڈکٹرز، دفاعی ٹیکنالوجی، مصنوعی اے آئی شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت نے کسی بڑی نجی ٹیکنالوجی کمپنی میں اتنے بڑے پیمانے پر حصص خرید کر شرکت کی ہو اور وہ بھی بغیر کسی انتظامی اختیار کے۔

بعض ماہرین اس اقدام کو “ریاستی سرمایہ داری کا آغاز کہہ رہے ہیں، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں محفوظ اور خودمختار بنانے کا راستہ ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں