’’ایرانی وفد امریکا سے واپس کیسے جائے گا؟‘‘ واشنگٹن سے اہم بیان

فہرستِ مضامین

واشنگٹن: امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر عائد معاشی دباؤ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے بیرونِ ملک جانے والی 80 سے 90 فیصد سے زائد پروازیں بند ہوچکی ہیں اور وہ حیران ہیں کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود ایرانی وفد واپس کیسے جائے گا۔

فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور تہران کو ایسی سخت پابندیوں کا سامنا ہے جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ان کے مطابق ان پابندیوں کے اثرات ایران کے بین الاقوامی فضائی رابطوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے مالیاتی اداروں، کمپنیوں اور دیگر کاروباری حلقوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق واشنگٹن ان اداروں اور افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جو ایران کو مالی معاونت، سامان یا دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

بیسنٹ نے امریکی حکمت عملی کے ممکنہ نتائج بیان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی کوششوں کے تین ممکنہ مقاصد ہوسکتے ہیں۔ ان میں ایرانی حکومت کے اندر اختلافات پیدا ہونا، ایرانی عوام کی جانب سے کسی بغاوت کا سامنے آنا، یا تہران کو کسی ایسے معاہدے پر آمادہ کرنا شامل ہے جس کی وہ پاسداری کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مہم میں فوجی کارروائی، بحری ناکہ بندی اور مالی دباؤ سمیت مختلف اقدامات شامل ہیں اور یہ دباؤ آنے والے ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے رواں سال کے آغاز میں ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش کی تھی، تاہم ان کے مطابق بعد میں تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں حملوں میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں اور انہوں نے اپنے خطاب میں جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کا مؤقف پیش کیا ہے۔

ایرانی وفد کی واپسی سے متعلق بیسنٹ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے بین الاقوامی فضائی رابطوں پر پابندیوں اور رکاوٹوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ بیسنٹ نے ایرانی وفد کی واپسی کے بارے میں سوال ضرور اٹھایا، تاہم ان کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی حکومت اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد کی واپسی روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام کرے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں