ایران ایک بار پھر ایٹمی پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کو خط

فہرستِ مضامین

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کے حوالے سے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کو خط لکھا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ اگر مغربی ممالک سنجیدگی اور خیرسگالی کا مظاہرہ کریں تو وہ ایٹمی پروگرام پر دوبارہ سفارتی بات چیت کے لیے تیار ہیں، ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، خط میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی ایسے اقدام سے پرہیز کیا جائے جو بات چیت کو نقصان پہنچا سکتا ہو.

ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

ایران کی جانب سے ایٹمی پروگرام پر سفارتی بات چیت کے حوالے سے خط  اس وقت سامنے آیا ہے، جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر پابندیاں لگانے کا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تینوں ممالک کی جانب سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ایٹمی پروگرام سے متعلق وعدوں پر عمل نہیں کیا اور وہ 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ایران کا ایٹمی پروگرام کب شروع ہوا؟

ایران کا ایٹمی پروگرام گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سیاست میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے 2003 میں کہا تھا کہ ایران تقریباً 18 سال سے ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے، جس میں ایک سے زائد بڑے اور جدید ایٹمی مراکز شامل ہیں، ایٹمی توانائی ایجنسی کے بیان کے بعد ایران کا ایٹمی پروگرام سفارتی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن گیا۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کی کوششیں

ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے مختلف اوقات میں کوششیں کی جاتی رہی ہیں، سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2002 میں ایران پر پابندیاں لگانے کے لیے سخت دباؤ ڈالا، جب کہ امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے اپنے دورِ حکومت میں برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی کے ساتھ مل کر ایران سے دو سال تک مذاکرات کیے، اور 2015 میں “جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن” (JCPOA) معاہدے پر دستخط کیے گئے، معاہدے کے تحت ایران کے ایٹمی پروگرام کی حدود مقرر کرنے پر تہران پر عائد پابندیوں میں کچھ نرمی کی گئی، لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی دور میں امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا اور یکطرفہ طور پر ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔

ایران-اسرائیل جنگ کیوں ہوئی؟

13جون 2025 کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے گئے، اسرائیل کا مؤقف تھا کہ انہوں نے ایران کے ایٹمی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملوں میں ایرانی فوجی افسران، سیاستدان اور شہری شہید ہوئے، ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔ 22 جون 2025 کو امریکہ نے اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے ایران کے ایٹمی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ایٹمی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی 12 دن تک جاری رہی، جس کے بعد 23 جون 2025 کو شام 6 بج کر 45 منٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں