ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق تجاویز پر امریکا کے جواب کا آج، منگل کو انتظار کر رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ قطری ثالثوں نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں، جن پر ایران نے ان کے ساتھ بات چیت کی۔ ان کے مطابق طے پایا ہے کہ قطری ثالث یہ تجاویز دوبارہ امریکی فریق کے سامنے رکھیں گے، جس کے بعد امریکا کا حتمی ردعمل ایران تک پہنچایا جائے گا۔
عراقچی نے کہا کہ قطری ثالثوں کو امید ہے کہ امریکی جواب منگل تک موصول ہوسکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب عراقچی نے قطری ثالثوں سے ملاقات اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق شرائط پر بات چیت کی تصدیق کی تھی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حتمی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کرسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے جوہری معاملے پر تہران کی جانب سے ’’ٹھوس پیش رفت‘‘ ضروری ہوگی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے بعد ازاں اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اسے من گھڑت اور غلط قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بالواسطہ مذاکرات کیے۔
ایران نے گزشتہ ہفتے دشمنانہ کارروائیاں روکنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک تجویز پیش کی تھی۔ منصوبے میں تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر سات روز کے لیے دشمنانہ کارروائیاں روکنے کی تجویز دی گئی تھی۔
ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز کھولنے سے قبل منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی بندرگاہوں سے متعلق امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرائط بھی شامل تھیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک بیان میں ایرانی تجویز مسترد کردی تھی۔