ایم پی اے عابد سندرانی کے خلاف خواتین کے اغوا کا مقدمہ،پولیس میں کھلبلی، ایس ایچ او معطل، ہیڈ کانسٹیبل برطرف

فہرستِ مضامین

پیپلزپارٹی کے سٹنگ ایم پی اے عابد خان سندرانی کے خلاف میہڑ کے اے سیکشن تھانے پر دو خواتین اور ایک بچی کے اغوا کا کیس درج ہونے کے بعد کھلبلی مچی ہوئی ہے، ایسے ماحول میں ایس ایس پی دادو امیر سعود مگسی نے میہڑ تھانے کے بڑے منشی ہیڈ کانسٹیبل رستم بگھیو کو برطرف کردیا ہے، جبکہ ایس ایچ او عبدالوحید پنہور کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔


لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کیا میہڑ کے ایس ایچ او اور ہیڈ کانسٹیبل کو ایک سٹنگ ایم پی اے کے خلاف اغوا کا کیس درج کرنے کی سزا دی گئی ہے؟ دادو پولیس کا کہنا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل رستم بگھیو کو بھتاخوری اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر برطرف کیا گیا ہے اور اس کا ذکر ایس ایس پی دادو کی طرف سے جاری کردہ برطرفی آرڈر میں بھی کیا گیا ہے۔


ایم پی اے عابد سندرانی کے خلاف میہڑ کے اے سیکشن تھانے پر اغوا کا پرچہ 23 ستمبر 2025 کو درج کیا گیا، لیکن یہ کیس 18 اکتوبر کو منظرعام پر آیا، جبکہ ایف آئی آر کے مطابق جرم یا واردات 28 اگست کو وقوع پذیر ہوئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم پی اے کے خلاف کیس درج کرتے وقت ایس ایچ او یا بڑے منشی نے ایس ایس پی کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔


ایس ایچ او نے ایسا کیوں کیا؟ اسے کے جواب میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے والی خواتین میں سے ایک ایس ایچ او کی رشتے دار ہیں اور ایس ایچ او کو ایم پی اے پر شدید غصہ تھا، اسے پتہ تھا کہ ایس ایس پی کبھی بھی ایم پی اے کے خلاف کیس درج کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایم پی اے عابد سندرانی کے خلاف میہڑ کی حسینہ ڈہر نامی خاتون کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں ان کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

فریادی خاتون کا مؤقف


فریادی خاتون نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم میر احمدجاگیرانی اور اس کی ماں نظیراں میری بیٹی کو فون پر تنگ کرتے تھے، 20 اگست کو گھوٹکی ضلع کے رہائشی ملزم میر احمد جاگیرانی اور اس کی ماں تین نامعلوم ملزمان کے ساتھ گھر میں گھس کر میری بیٹی فوزیہ، نسرین اور بھتیجی فاطمہ کو اغوا کر کے لے گئے۔


ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم پی اے عابد سندرانی کے پاس گئے تو اس نے فون پر ملزمان سے بات کی اور 9 ستمبر کو آنے کے لیے کہا، ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کے مطابق مذکورہ تاریخ پر جب وہ پہنچے تو عابد سندرانی نے چالیس سے پینتالیس لاکھ تاوان دینے کا مطالبہ کیا۔
فریادی خاتون حسینہ کا کہنا ہے کہ عابد سندرانی نے اغوا میں ملوث ملزمان کو اپنے پاس پناھ دی ہوئی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔


ایم پی اے عابد خان سندرانی کے خلاف اغوا کا کیس درج ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی، ان کا نام ایف آئی آر سے خارج کرانے کے لیے پولیس نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا، پولیس کی طرف سے فریادی خاتون حسینہ ڈہر کے نام سے منسوب ایک حلف نامہ بھی سرکیولیٹ کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایم پی اے کا نام غلط فہمی میں دیا گیا ہے، لیکن فریادی خاتون حسینہ ڈہر نے تھانے پر جمع کرائے گئے ایسے کسی بھی حلف نامے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا۔


ایف آئی آر سے نام خارج کرانے میں ناکامی کے بعد ایم پی اے عابد خان سندرانی کو دادو کے سیشن جج کی عدالت سے عبوری ضمانت لینی پڑی، سیشن جج نے پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی اور کیس فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت منتقل کردیا، کیس کی آئندہ سماعت 18 اکتوبر کو ہوگی۔

ڈبلیو ٹی این کی طرف سےایم پی اے عابد خان سندرانی کا مؤقف لینے کےلئے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔


میہڑ شہر سے مبینہ طور پر اغوا کی گئی 32 سالہ فوزیہ، 45 سالہ نسرین اور 8 سالہ بچی فاطمہ کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے، فریادی خاتون حسینہ ڈہر بھی میڈیا کے سامنے یا منظرعام پر نہیں آ رہی ہے۔

اگلی سماعت میں کیس سی کلاس کرانے کا امکان


سب کی نظریں دادو کی عدالت میں 18 اکتوبر کو ہونے والی سماعت پر گڑی ہوئی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس 18 اکتوبر کو کیس سی کلاس کرنے یا ایم پی اے کا نام کیس سے خارج کرنے کے بارے میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گی، عدالت ایم پی اے عابد خان سندرانی کا نام اغوا کیس سے خارج کرنے کی منظوری دے گی یا ان کے خلاف کوئی بڑا حکم سنائے گی، یہ 18 اکتوبر کو ہی معلوم ہوگا۔۔۔۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں