مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے حکومتوں سے سخت نگرانی اور مؤثر قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بل گیٹس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت دنیا میں بڑے پیمانے پر مثبت تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اگر یہ طاقت غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
اے آئی کے ممکنہ خطرات پر بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے خبردار کیا کہ کچھ عناصر مصنوعی ذہانت کو ایسے مقاصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں جن کا تصور ماضی میں نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانے یا نقصان دہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔
بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر واضح اصول اور حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کو اے آئی کی نگرانی کیلئے مؤثر نظام وضع کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے قوانین بھی بنانا چاہئیں جو اس کے غلط استعمال کو روک سکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے ممکنہ نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس ٹیکنالوجی کو مناسب نگرانی کے بغیر آزادانہ طور پر استعمال ہونے دیا گیا تو یہ بڑے پیمانے پر انسانی زندگیوں، سلامتی اور عالمی استحکام کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔
بل گیٹس کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کا استعمال طب، تعلیم، کاروبار، تحقیق، دفاع اور دیگر شعبوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کیلئے قوانین اور ضوابط بنانے پر بحث جاری ہے۔