
باجوڑ کے علاقے ماموند کے 16 دیہات میں دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے دو روز سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے، علاقہ مکینوں کے مطابق آج کوئی ہیلی کاپٹر گشت کرتے ہوئے نظر نہیں آیا اور نہ ہی فائرنگ یا بم دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔
گزشتہ روز باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ماموند کے 16 دیہات میں اگلے تین روز تک لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی رہے گی اور یہ پابندی 29 جولائی سے 31 جولائی کی شام تک نافذ رہے گی۔
مقامی صحافی بلال یاسر کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے گل ظفر کی قیادت میں ماموند جانے والی اہم سڑک (عمری چوک) کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس میں مظاہرین ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھائے ہوئے ہیں اور آپریشن پر تنقید کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کا مقصد عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جبکہ آئی ایس پی آر کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
مقامی صحافیوں کے مطابق کرفیو کے پہلے روز فائرنگ اور بم دھماکوں سے افراتفری مچ گئی، جس کے باعث درجنوں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور نے شہید شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کے لیے فی کس 25 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران کتنے شہری اور اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
کرفیو کی مخالفت
صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہریوں کی شہادت سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ایسے واقعات سیکورٹی فورسز اور عوام کے درمیان اعتماد کو ختم کر رہے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔
علی امین گنڈا پور نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر کہیں بھی کرفیو یا دفعہ 144 نافذ نہ کریں۔

دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی مخالفت کردی ہے، اے این پی کے ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ باجوڑ میں معصوم جانیں ضائع ہوئی ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ ان کی جماعت اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی، ماضی کی کارروائیوں کے اچھے نتائج نہیں ملے،
باجوڑ کی تحصیل ماموند اتنی اہم کیوں ہے؟
ضلع باجوڑ افغانستان کی سرحد کے ساتھ ہے اور ماموند کی سرحد براہ راست افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملتی ہے۔
ماموند ضلع باجوڑ کی سب سے بڑی تحصیل ہے، جس کا رقبہ 250 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی سرحدیں سلارزئی، خار باجوڑ اور نواگئی کے اضلاع سے ملتی ہیں، جبکہ ماموند کی سرحدیں دو افغان اضلاع شگئی اور مروانہ سے ملتی ہیں۔
خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں حالات کافی عرصے سے کشیدہ ہیں، دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جن میں سے زیادہ تر کی ذمے داری کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے قبول کی جاتی ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں باجوڑ میں ایک بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل، ایک پولیس کانسٹیبل اور دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔