برطانوی شاہی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار، شہزادہ اینڈریو اور ان کی سابق اہلیہ لقب اور مراعات سے محروم

فہرستِ مضامین

برطانوی شاہی خاندان ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گیا ہے۔ اس بار معاملہ شہزادہ اینڈریو، ان کی سابق اہلیہ سارہ فرگوسن، اور ان کی دونوں بیٹیوں شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی سے جڑا ہے۔یہ تنازع نہ صرف خاندان کے اندر تناؤ پیدا کر رہا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی ہلا رہا ہے۔

شہزادہ اینڈریو اور ایپسٹین اسکینڈل

شہزادہ اینڈریو، جو کئی دہائیوں تک شاہی ذمہ داریاں نبھاتے رہے، ایک بار پھر ماضی کے تعلقات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سزا یافتہ امریکی بزنس مین جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات رکھے، جس پر جنسی جرائم اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات ثابت ہو چکے تھے۔ independent

شاہی خاندان میں نومبر 2019 میں دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی، جب شہزادہ اینڈریو نے ایپسٹین کے ساتھ دوستی پر سوالات کا سامنا کیا۔ انٹرویو کے بعد شاہی محل نے ان کی تمام عوامی ذمہ داریاں ختم کر دیں۔ the star

سارہ فرگوسن کی مشکلات میں اضافہ

شہزادہ اینڈریو کی سابق اہلیہ سارہ فرگوسن، جو ایک وقت میں “ڈچیس آف یارک” کہلاتی تھیں، اب ایک نئی آزمائش سے گزر رہی ہیں۔
حال ہی میں ایک پرانی ای میل لیک ہوئی ہے جس میں انہوں نے ایپسٹین کو “میرا عظیم دوست” کہا تھا۔یہ اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے عوامی سطح پر کہا تھا کہ وہ اس سے کبھی رابطہ نہیں رکھیں گی۔ reuters

اس سے پہلے، 2011 میں بھی انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ ایپسٹین نے انہیں 15 ہزار پاؤنڈ دیے تھے، جسے انہوں نے اپنی “بڑی غلطی” قرار دیا تھا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق، سارہ فرگوسن نے بھی اپنے شاہی لقب “ڈچیس آف یارک” کا استعمال بند کر دیا ہے اور سوشل میڈیا سے شاہی شناخت ہٹا دی ہے۔اس کے بعد کئی خیراتی اداروں نے بھی ان سے تعلق ختم کر لیا۔ bbc

ذرائع کے مطابق انہیں شاہی رہائش رائل لاج سے گھر خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جہاں وہ کئی سالوں سے رہائش پذیر تھیں۔

شہزادی بیٹریس اور یوجینی بھی دباؤ میں

شہزادی بیٹریس  جو 37 سال اور شہزادی یوجینی 35 سال کی ہیں ، دونوں “یارک سسٹرز” کے نام سے جانی جاتی ہیں، اب بھی شاہی لقب رکھتی ہیں، مگر ان کی زندگی بھی اپنے والدین کے تنازعات سے متاثر ہوئی ہے۔

بیٹریس نے حال ہی میں سعودی عرب کے ایک سرمایہ کاری اجلاس میں شرکت کی، جبکہ یوجینی پیرس میں دوستوں کے ساتھ دیکھی گئیں۔
دونوں کی یہ سرگرمیاں میڈیا میں مختلف انداز سے دیکھی جا رہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ دونوں شہزادیوں اس تنازعے سے خود کو دور رکھا ہوا ہے

دوسری جانب ایک پرانی تصویر نے پھر توجہ حاصل کی ہے، جس میں بیٹریس گزلین میک ویل اور دیگر افراد کے ساتھ ایپسٹین کی ایک تقریب میں نظر آ رہی ہیں۔یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یارک خاندان ایک بار پھر بحث میں آ گیا ہے۔ the star

شاہی محل کے فیصلے

شاہی محل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب “پرانے دور جیسی شاہی زندگی” برقرار نہیں رہے گی۔
اہم تبدیلیوں میں شامل ہیں:

شہزادہ اینڈریو نے “پرنس” اور “ڈیوک آف یارک” کے القاب استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بادشاہ نے ان کے القاب واپس لینے کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے۔

سارہ فرگوسن کو شاہی معاونت نہیں ملے گی، انہیں اپنے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔بیٹریس اور یوجینی شاہی خطاب تو رکھیں گی، مگر وہ “ورکنگ رائلز” یعنی شاہی فرائض انجام دینے والی رکن نہیں ہوں گی۔ the star

شاہی مبصرین کے مطابق، یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ خاندان اب زیادہ شفاف اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانا چاہتا ہے۔

ذاتی زندگی اور عوامی شبیہ کا امتحان

سارہ فرگوسن نے ماضی میں بچوں کی کتابیں لکھیں اور کئی چیریٹیز کے ساتھ کام کیا، مگر اب اسکینڈل نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
بیٹریس نے لندن میں BY-Eq کے نام سے مشاورتی فرم قائم کی ہے، جبکہ یوجینی آرٹ گیلری Hauser & Wirth سے وابستہ ہیں۔
تاہم والدین کے اسکینڈلز کا سایہ اب بھی ان کے کیریئر پر موجود ہے۔

لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ کیا وہ اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوں گی یا ہمیشہ والدین کے تنازعات سے جڑی رہیں گی؟

مستقبل کے فیصلے اہم ہوں گے

شاہی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دن بیٹریس اور یوجینی کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔کرسمس کی شاہی تقریبات میں ان کا کردار اہم سمجھا جا رہا ہے۔ کیا وہ والدین کے ساتھ نظر آئیں گی یا شاہی خاندان کے نئے ڈھانچے کا حصہ بنیں گی؟

ایک تجزیہ کار کے مطابق:“یارک خاندان کی کہانی نے ان کے نام پر گہرا نشان چھوڑا ہے۔ اب یہ شہزادیوں پر ہے کہ وہ اپنی راہ کس سمت میں لے جاتی ہیں۔”

نتیجہ

یہ تنازع صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ شاہی نظام کے وقار کا امتحان بھی ہے۔

سارہ فرگوسن اپنی عزت اور پہچان بچانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔شہزادہ اینڈریو ماضی کی غلطیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔بیٹریس اور یوجینی نئی نسل کی نمائندہ ہیں جو ایک داغدار وراثت سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ تنازع بتاتا ہے کہ شاہی زندگی صرف عہدوں اور تقاریب کا نام نہیں، بلکہ ہر قدم، ہر تعلق اور ہر فیصلہ عوام کی نظر میں تولے جاتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں