پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے کوئٹہ میں اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو پہلی مرتبہ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گروپ مجید بریگیڈ کے اہم عہدیدار کو گرفتار کرنے میں کامیابی ملی ہے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق مجید بریگیڈ کا عہدیدار پاکستان اسٹیڈیز کا لیکچرار ہے، وزیر اعلیٰ نے اپنی پریس کانفرنس کے شروع میں کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک خودکش بمبار کو گرفتار کیا ہے، جوکہ 14 اگست پاکستانی کے آزادی کے دن معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والا تھا۔
مجید بریگیڈ کیا ہے اور کن کارروائیوں میں ملوث رہی ہے؟
مجید بریگیڈ اور اس کے نام نہاد فدائین کا نام پہلی بار 30 دسمبر 2011 کو اس وقت سامنے آیا جب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ارباب کرم خان روڈ پر واقع سابق وفاقی وزیر نصیر مینگل کے بیٹے شفیق مینگل کے گھر کے سامنے ایک کار کو خودکش حملے سے نشانہ بنایا گیا۔

خودکش حملے میں شفیق مینگل تو محفوظ رہے مگر ان کے محافظوں سمیت 10 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی اور بتایا کہ ’ مجید برگید ‘ کی جانب سے یہ ’فدائی حملہ ‘ درویش نامی نوجوان نے کیا تھا۔
اس خودکش حملے کے بعد مجید بریگیڈ منظر عام سے کچھ عرصے کے لیے غائب ہوگئے اور اس کی جانب سے کسی بڑے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
استاد اسلم عرف اچھو مجید بریگیڈ کے پہلے سربراہ تھے جنہوں نے اس کالعدم تنظیم کی کارروائیوں میں نہ صرف جدت اور شدت لائے بلکہ بلوچستان میں دہائیوں سے جاری بلوچ شدت پسندی کو پہاڑوں سے شہروں بلخصوص کراچی تک لے آئے۔
دسمبر 2018 میں اسلم اچھو قندھار میں ایک حملے میں ہلاک ہوگئے، حکومت کی جانب سے ان کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، جس کے بعد کالعدم جماعت کی قیادت بشیر زیب نامی شخص کے سپرد ہوئی، جو ماضی میں بی ایس او کے چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔
’ دہشتگرد 14 اگست کو خودکش حملہ کرنا چاہتے تھے ‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی اداروں، محکمہ انسداد دہشت گردی بلوچستان اور پولیس کو صوبے کو بڑی تباہی سے بچانے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار مشتبہ خودکش بمبار سے متعلق کہا کہ وہ یوم آزادی پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے تھے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو گرفتار کیا گیا، یہ پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے، اندازہ کریں کہ کتنے بچوں کو اس نے ورغلایا ہوگا، یہ شخص دہشت گردوں کا علاج اپنے گھر پر کرواتا تھا۔
وزیرعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ منظم انداز میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہماری ایجنسیاں، حکومت اور ہر کوئی پریشان ہے، اس دہشت گردی کو کچھ اور نام دیا جاتا ہے، ایسے لوگ جن کے رشتہ دار کسی عسکریت پسند تنظیم کا حصہ بنتے ہیں تو ان کے اہل خانہ کسی کو اطلاع نہیں دیتے، حالانکہ ایسے لوگ تربیت لے کر واپس گھر بھی آتے ہوں گے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے اہل خانہ کو حکومت کا اطلاع دینا ہوگی، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ پورا خاندان ملا ہوا ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزم نے انکشاف کیے ہیں کہ مجید برگیڈ کئی ٹیئرز میں کام کرتی ہے، یہ لوگوں کو ورغلا کر انہیں تربیت دیتی ہیں، انہیں خود کش حملہ آور بناتے ہیں، ایک ٹیئر میں پولیس، لیوز، فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے پر پیسے دیے جاتے تھے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی ٹارگیٹ کرنے پر انہیں پیسے دیے جاتے ہیں۔
دوران پریس کانفرنس وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک گرفتار شخص کا ریکارڈ شدہ بیان بھی جاری کیا، جس میں وہ کہہ رہا تھا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے، اور گریڈ 18 کے لیکچرار کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس شخص نے مزید کہا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرفتار لیکچرار کا محدود اعترافی بیان اس لیے جاری کیا تاکہ جاری تحقیقات متاثر نہ ہوں، انہوں نے نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن بم دھماکے کا ذکر کیا، جس میں 32 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اور بتایا کہ گرفتار لیکچرار مبینہ طور پر اس حملے میں سہولت کاری میں ملوث تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس (لیکچرار) نے حملہ آور کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ریلوے اسٹیشن کے قریب اتارا، اور اس کے بعد اسے ایک اور ہینڈلر کے حوالے کیا جو ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں شورش کے مسئلے کو بعض لوگ ’محرومی‘ سے جوڑتے ہیں، اس پر وزیراعلیٰ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ لوگ کیسے محروم ہیں؟ ملزم کی ماں اب بھی پنشن لے رہی ہے جس کا مطلب ہے وہ بھی سرکاری ملازم تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے، وہ خود گریڈ 18 کا افسر ہے، پاکستانی اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر کے پی ایچ ڈی کی، بھائی ریکوڈک منصوبے میں ملازم ہے، اس کا مطلب ہے وہ کسی طرح محروم نہیں تھا۔
ریاست نے عزت، وقار، نوکری دی، میں نے غداری کی

وزیراعلیٰ بلوچستان نے گرفتار شخص کا ایک ریکارڈ شدہ بیان بھی چلایا، جس میں اس نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے، اس شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔
گرفتار ملزم ڈاکٹر عثمان قاضی نے تفصیل بتائی کہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ’ایک تنظیم‘ سے تعلق رکھنے والے 3 افراد سے ہوئی تھی، جن میں سے دو بعد میں مارے گئے، باقی 2 افراد نے اسے اس شدت پسند گروہ میں شامل کرایا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔
عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ تمام تعارف ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے کروائے گئے اور کوئٹہ آنے پر اس نے گروہ کی ہدایات پر 3 کارروائیوں میں سہولت فراہم کی۔
لیکچرار نے کہا کہ ڈاکٹر حبیطان اور فی خالق کی ہدایات کے مطابق گروہ کی مدد کی، ایک ایسے عسکریت پسند کو پناہ دی جو قلات میں جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا، میں نے اسے کسی اور شخص کے حوالے کر دیا تھا اور اگلے دن وہ یہاں ریلوے خودکش دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔
اس نے ایک اور ایسا ہی واقعہ سنایا کہ جس شخص کو اس نے 7 سے 8 دن تک پناہ دی تھی، وہ 14 اگست کے کسی واقعے میں استعمال ہونے والا تھا، لیکچرار نے یہ بھی اقرار کیا کہ اس نے ایک پستول خریدا تھا جو سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا۔
گرفتار لیکچرار نے کہا کہ یہ وہ کام ہیں جو میں نے کیے، یہ وہ سہولت کاری ہے جو میں نے کی، اگر دیکھا جائے تو ریاست نے مجھے اور میری اہلیہ کو عزت، وقار، نوکری سب کچھ دیا، لیکن اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی اور ریاست سے غداری کی۔
اس نے کہا کہ مجھے بہت زیادہ شرمندگی ہے کہ میں ان کارروائیوں میں شامل رہا اور اس پر افسوس ہے، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں، نوجوان، یہاں کے طلبہ ان تنظیموں سے بچ سکیں جو بدامنی پھیلا رہی ہیں۔
امریکا نے مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیم قرار کیوں دیا؟
امریکہ کی جانب سے کسی بھی تنظیم کو ’غیرملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیے جانے کے نتیجے میں ایسی تنظیم کے تمام اثاثے منجمد کر دیے جاتے ہیں اور کسی بھی فرد یا ادارے کو اس کے ساتھ لین دین کی اجازت نہیں ہوتی، کالعدم قرار دی گئی تنظیم کو مالی مدد فراہم کرنا سنگین جرم ہے جس کی سزا بیس سال یا اس سے زیادہ کی قید ہو سکتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ’امریکہ میں موجود یا امریکی دائرہ اختیار میں آنے والے کسی بھی شخص کے لیے کسی بھی نامزد غیر ملکی دہشتگرد تنظیم (ایف ٹی او) کو جان بوجھ کر ‘مادی مدد یا وسائل’ فراہم کرنا غیر قانونی ہے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کسی بھی تنظیم کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کا مقصد دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے اور دیگر ممالک کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دینے کی امریکی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
اس کا مقصد ایسی تنظیموں کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنا، نامزد تنظیموں کے ساتھ عطیات یا تعاون اور اقتصادی لین دین کو روکنا، اور دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں عوامی بیداری کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کا امریکی فیصلے کا خیرمقدم
پاکستانی حکام نے امریکہ کی جانب سے کالعدم مجید بریگیڈ کو ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دینے کو ’قابل تحسین اقدام‘ قرار دیا ہے۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکہ کے سرکاری دورے پر تھے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پاکستان میں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں، حکومت پاکستان انہیں پہلے ہی دہشتگرد تنظیم قرار دیگر پابندی عائد کر چکی تھی، امریکی فیصلہ تاریخی ہے، جسے پاکستان سراہتا ہے۔