سڈنی ( ویب ڈیسک ) آسٹریلیا کے انٹرنیٹ نگران ادارے نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں اب بھی اپنی پلیٹ فارمز پر بچوں سے جنسی زیادتی کے آن لائن مواد کے حوالے سے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں، اور خاص طور پر یوٹیوب نے اس حوالے سے کی گئی پوچھ گچھ کا کوئی جواب نہیں دیا۔
برطانوی خبر رسان ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں آسٹریلیا کے ای سیفٹی کمشنر نے کہا کہ یوٹیوب اور ایپل دونوں اس بات کو ٹریک کرنے میں ناکام رہے کہ انہیں کتنی صارف رپورٹس موصول ہوئیں جن میں بچوں سے جنسی زیادتی کے مواد کی نشاندہی کی گئی تھی، اور یہ بھی نہیں بتا سکے کہ ایسے مواد کی رپورٹ پر جواب دینے میں انہیں کتنا وقت لگا۔
گوگل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس کے پلیٹ فارمز پر جنسی زیادتی کے مواد کی کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ ایسے مواد کی شناخت اور اسے ہٹانے کے لیے متعدد صنعتی معیار کے طریقے استعمال کرتا ہے، میٹا،جو فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز جیسے تین بڑے پلیٹ فارمز کی مالک ہے جن کے دنیا بھر میں 3 ارب سے زائد صارفین ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ گرافک ویڈیوز کی اجازت نہیں دیتا۔
آسٹریلیا میں بچوں سے جنسی زیادتی
ای سیفٹی کمشنر، جو انٹرنیٹ صارفین کے تحفظ کے لیے قائم ایک ادارہ ہے، انہوں نے ایپل، ڈسکارڈ، گوگل، میٹا، مائیکروسافٹ، اسکائپ، اسنیپ اور واٹس ایپ کو ہدایت کی ہے کہ وہ آسٹریلیا میں بچوں کے جنسی استحصال اور زیادتی سے متعلق مواد کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر رپورٹ جمع کروائیں۔
اب تک موصول ہونے والے جوابات پر مبنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ “ان کی سروسز میں کئی حفاظتی خامیاں موجود ہیں، جن کی وجہ سے بچوں کے جنسی استحصال اور زیادتی سے متعلق مواد اور سرگرمی کے ظاہر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
حفاظتی کمزوریوں میں اس مواد کی لائیو اسٹریم روکنے میں ناکامی، معروف بدسلوکی والے مواد کے لنکس کو بلاک نہ کرنا، اور رپورٹنگ کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف پلیٹ فارمز اپنی تمام سروسز پر “ہیش میچنگ” ٹیکنالوجی استعمال نہیں کر رہے، جس کے ذریعے بچوں سے جنسی زیادتی کی تصاویر کو ایک ڈیٹابیس سے موازنہ کرکے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ گوگل پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ اس کے انسدادِ بدسلوکی اقدامات میں ہیش میچنگ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت اے آئی شامل ہیں۔
یوٹیوب نے سوالوں کے جواب نہیں دیے
آسٹریلوی ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ بعض فراہم کنندگان نے اپنی سروسز پر موجود حفاظتی خامیوں کو دُور کرنے کے لیے کوئی بہتری نہیں کی، حالانکہ انہیں گزشتہ برسوں میں اس بارے میں خبردار کیا جا چکا ہے۔
ای سیفٹی کمشنر این مین گرانٹ نے کہا “ایپل کی سروسز اور گوگل کے یوٹیوب کے معاملے میں تو انہوں نے ہمارے ان سوالات کے بھی جواب نہیں دیے کہ انہیں اپنی سروسز پر بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے کتنی یوزر رپورٹس موصول ہوئیں، یا یہ کہ ایپل اور گوگل کے پاس ٹرسٹ اینڈ سیفٹی اسٹاف کی تعداد کتنی ہے۔
آسٹریلیا میں بچوں سے زیادتی کے کیسز بڑھ رہے ہیں، سال 2023-24 میں آسٹریلین سینٹر ٹو کاونٹر چائلڈ ایکسپلوٹیشن میں بچوں سے جنسی اسحصال یا بدسلوکی 58503 آن لائن رپورٹس موصول ہوئیں، روزانہ تقریبن 160 رپورٹس درج ہوتی ہیں۔