نئی دہلی ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کے فلاحی ادارے کے زیرِ انتظام ایک جنگلی حیات بچاؤ مرکز (وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر) کے خلاف قانونی کارروائی کے سلسلے میں بھارت کی سپریم کورٹ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ جانوروں کے غیرقانونی حصول یا ان کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کی تائید میں شواہد موجود نہیں ہیں۔
وانتارا یہ ریلائنس فاؤنڈیشن اور امبانی خاندان کا ایک نمایاں منصوبہ ہے، جو مغربی ریاست گجرات کے شہر جام نگر میں واقع ہے۔ اس کی قیادت مکیش امبانی کے بیٹے، انانت امبانی، کر رہے ہیں۔ وانتارا میں ہزاروں جانوروں کو ریسکیو اور علاج فراہم کیا گیا ہے، اور یہاں دنیا کا سب سے بڑا ہاتھیوں کا اسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔
گزشتہ برس انانت امبانی کی شادی سے قبل کی تقریبات میں بھی وانتارا کو ایک مقام کے طور پر استعمال کیا گیا، جہاں شرکت کرنے والے عالمی شہرت یافتہ مہمانوں کو جنگل فیور طرز کے ملبوسات پہننے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
عدالتی کارروائی اور الزامات
سپریم کورٹ نے پیر کی شام مفادِ عامہ کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ایک آزاد تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ درخواستیں غیر سرکاری تنظیموں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے گروپوں نے دائر کی تھیں، جن میں جانوروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ یہ جانور وانتارا میں کیسے پہنچے۔
درخواستوں میں یہ الزام بھی شامل تھا کہ سینٹرل زو اتھارٹی، جو اس طرح کے اداروں کی نگرانی کرنے والا سرکاری ادارہ ہے، اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ اگرچہ فی الوقت شواہد الزامات کی تائید نہیں کرتے، لیکن چونکہ ان درخواستوں میں یہ کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں، اس لیے ایک آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔
تحقیقاتی پینل تشکیل
بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم کے مطابق ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی پینل تشکیل دیا گیا ہے۔ اس پینل کو معاملات کی جانچ کا حکم دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی پینل جانوروں، خصوصاً ہاتھیوں کی غیر قانونی درآمد، جنگلی حیات کے قوانین کی خلاف ورزیاں، منی لانڈرنگ، گجرات کے سخت موسم میں جانوروں کی فلاح و بہبود پر اثرات کی جانچ پڑتال کریگا۔
عدالت نے کہا کہ یہ اقدام میڈیا رپورٹس اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ایک غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی جائزہ لیا جائے، تحقیقاتی ٹیم کو 12 ستمبر تک اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے۔
اگرچہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مارچ میں وانتارا کا دورہ کیا تھا اور اس اقدام کو “قابلِ ستائش” قرار دیا تھا، لیکن یہ 3,000 ایکڑ پر محیط سہولت عام عوام کے لیے کھلی نہیں ہے اور جنگلی حیات کے کارکنوں کی جانب سے یہاں رکھے گئے 1,50,000 سے زائد جانوروں کی فلاح کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
ونتارا کا موقف
وانتارا کا مؤقف ہے کہ یہ مرکز ایسے جانوروں کے لیے قائم کیا گیا ہے جو دوبارہ جنگل میں چھوڑے نہیں جا سکتے، اور ان کے لیے یہاں عمری نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ سینٹر شدید گرمی والے علاقے میں واقع ہے، جو امبانی خاندان کے تیل صاف کرنے والے کارخانے کے قریب ہے۔