بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے تینوں دریاؤں چناب، ستلج اور راوی میں خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں سیلاب کی صورتحال پر غور کیا گیا، جبکہ وفاقی وزیر مصدق ملک کو آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔
اجلاس میں سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بھارت سے پانی کا آنا مسئلہ نہیں ہے، بھارت کے ڈیمز بھریں گے تو وہاں سے پانی آئے گا، ہمیں ڈیم بنانے، زمین کے درست استعمال کی ضرورت ہے۔
ڈبلیو ٹی این کے مطابق قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن منزہ حسن کی زیر صدات ہوا، جس میں سیلابی صورتحال سے متعلق صورت حال پر غور کیا گیا۔
سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ سیلاب کی صورت حال بھارت کے پانی کا مسئلہ نہیں ہے، بھارت کے ڈیمز بھریں تو وہاں سے پانی آئے گا، وزارت آبی ذخائر کے حکام کو آکر کمیٹی بریفنگ دینی چاہیے۔
ڈیم بنانے اور زمین کے درست استعمال کی ضرورت ہے
سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ ہمیں ڈیم بنانے اور زمین کے درست استعمال کی ضرورت ہے۔
کمیٹی کی رکن طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ ملک بھر میں سیلاب، بارشوں نے تباہی مچا رکھی ہے، وفاقی وزیر مصدق ملک نے اجلاس میں ایک بار بھر شرکت نہیں کی، ملک میں اس قدر سیلاب آیا ہوا ہے، آئندہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کو بلائیں۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے تبصرہ کیا کہ وفاقی وزیر بند باندھنے میں مصروف ہیں، اس لیے نہیں آئے ہوں گے۔
سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر کا ایک اسائمنٹ لگایا ہے، وہ وہاں مصروف ہیں، اس لیے اجلاس میں نہیں آسکے۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار
اس سے قبل 25 مارچ کو ہوئے اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
کمیٹی ممبر اویس حیدر جکھڑ نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں، سوشل میڈیا کے دور میں وزارت موسمیاتی تبدیلی روایتی انداز سے کام کر رہی ہے۔
کمیٹی ممبر طاہر اورنگزیب نے کہا تھا کہ جنگلات کے عالمی دن کے موقعے پر وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کوئی آگاہی نہیں دی، معذرت کے ساتھ وزارت کچھ کام نہیں کر رہی۔