واشنگٹن ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ بھارت نے امریکی مصنوعات پر عائد ٹیرف (محصولات) کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم ان کے بقول یہ اقدام اب بہت دیر سے کیا گیا ہے۔
بھارتی سفارت خانے نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا،
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر لکھا کہ بھارت کے ساتھ ہمارا تعلق ہمیشہ ایک طرفہ رہا ہے۔ اب انہوں نے ہمارے سامان پر ٹیرف ختم کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ انہیں یہ برسوں پہلے کر دینا چاہیے تھا۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد تک کے محصولات نافذ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام روس سے بھارتی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری پر بطور سزا کیا گیا ہے۔ یہ امریکہ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد روس پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرے۔
امریکا بھارت تعلقات میں بگاڑ
بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں واضح تناؤ آ چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت سے امریکہ آنے والی کئی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس لاگو ہوا ہے، جس کے بعد بھارت نے ان اقدامات کو “غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر معقول قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، انہوں نے ٹیرف کو ایک وسیع تر پالیسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔
بھارت کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ
ان تجارتی کشیدگیوں کے دوران، بھارت نے چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔
تجارتی مذاکرات میں رکاوٹیں
امریکہ اور بھارت کے درمیان زرعی اور ڈیری مصنوعات پر تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکی زرعی مصنوعات کو بھارتی منڈی تک زیادہ رسائی حاصل ہو۔ جبکہ وزیراعظم مودی بھارتی کسانوں کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں، جو ملک کی ایک بڑی ووٹر بیس ہیں۔
2024 میں امریکہ بھارت کا سب سے بڑا برآمدی بازار تھا، جہاں بھارت نے 87.3 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 50 فیصد ڈیوٹی دراصل تجارتی پابندی کے مترادف ہے اور اس سے چھوٹی بھارتی کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔
ٹیکسٹائل، سمندری غذا (سی فوڈ)، اور زیورات برآمد کرنے والوں نے امریکی آرڈرز منسوخ ہونے اور بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک کو نقصان ہونے کی شکایت کی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔