بیٹی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار شخص کو سپریم کورٹ نے 12 سال بعد بری کردیا

فہرستِ مضامین

اسلام آباد ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) جمعرات کے روز سپریم کورٹ نے ایک ایسے شخص کو بری کر دیا جو اپنی بیٹی سے زیادتی کے الزام میں 12 سال سے جیل میں قید تھا۔ عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد میں تضادات کی بنا پر فیصلہ سنایا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے 10 صحفات پر مشتمل تفصیلی جاری کردیا، بینچ کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی،  فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کے شواہد ناقابلِ اعتبار ہیں اور عدالت نے انہیں مسترد کر دیا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اپیل کنندہ کی سزا اور سزا کا حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری رہا کیا جائے۔ حکم کے مطابق، 2010 میں ملزم کی کم عمر بیٹی نے اپنی والدہ اور ماموں کو بتایا تھا کہ اس کے اپنے والد نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

کیس کیا ہے؟

2 اکتوبر 2010 کو متاثرہ بچی، جس کی عمر تقریباً چھ یا سات سال تھی، روتی ہوئی اپنی ماں کے پاس گئی اور بتایا کہ اس کے والد (یعنی اپیل کنندہ) نے اس کے ساتھ  زیادتی کی ہے، جس کے بعد اسے شدید تکلیف محسوس ہوئی۔

اس کے بعد والد کو گرفتار کر لیا گیا اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376(1) کے تحت عمر قید اور 35,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ نے 2013 میں اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔

ملزم نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی، عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی عمر قید کی سزا بھی کالعدم قرار دی اور کہا کہ ملزم کو فوری رہا کیا جائے اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔

بچی سے زیادتی کی تصدیق نہیں ہوئی

عدالتی فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ ماں کا موقف تھا کہ دوپہر دو بجے اپیل کنندہ نے بیٹی سے زیادتی کی، لیکن متاثرہ بچی کے بیان نے اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا، جس کی مضبوط تصدیق کی ضرورت تھی۔فیصلے میں مزید کہا گیا شکایت کنندہ (والدہ) کے مطابق، متاثرہ بچی کو اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ ان کی موجودگی میں ہوا، تاہم، ڈاکٹر کے بیان میں تضاد پایا گیا۔

ابتدائی بیان میں ڈاکٹر نے کہا کہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی، لیکن جرح کے دوران اس نے واضح طور پر کہا کہ کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ کے مطابق، بچی کے ساتھ زیادتی ثابت نہیں ہوئی۔

ٹرائل کورٹ قابلیت پر سوالات

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اس سے متاثرہ بچی کے بیان کی ساکھ اور اپیل کنندہ پر جھوٹا الزام لگنے کے امکان پر سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شکایت کنندہ اور اپیل کنندہ کے درمیان تنازعہ کی وجہ سے ایسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہوں، جیسا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے۔

عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ ٹرائل کورٹ نے بچی کا بیان ریکارڈ کرتے وقت “عقلی قابلیت (Rationality Test)” کا جائزہ نہیں لیا،فیصلے میں لکھا گیا کوئی بھی بچہ اُس وقت قابلِ گواہی ہوتا ہے جب وہ اپنے بیان کے حقائق کو سمجھنے کی مناسب عقل و شعور رکھتا ہو۔

حکمانے کے مطابق عدالت کی طرف سے پوچھے گئے متعلقہ سوالات اور ان کے جوابات کی بنیاد پر ایک نوٹ یا مشاہدہ، گواہی کو قابلِ اعتبار بنا سکتا ہے، اور موجودہ کیس میں متاثرہ کے بیان کو مضبوط شہادت سے تقویت درکار ہے۔

پاکستان میں زیادتی کے خلاف قانون

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں زیادتی کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں، جن کے تحت مجرم کو سزائے موت یا 10 سے 25 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے، تاہم ایسے مقدمات بدستور عام ہیں۔

گزشتہ سال بچوں کے خلاف جنسی جرائم پر کام کرنے والی تنظیم “ساحل” کے جمع کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ زیادتی کرنے والوں کی اکثریت متاثرہ کے جاننے والے، محلے دار یا قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔

مارچ میں بہاولپور میں ایک 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چار افراد کا سراغ لگایا گیا، جو بچی کے قریبی رشتہ دار نکلے، جن میں سے دو اس کے ماموں تھے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں