کراچی ( ڈبلیو ٹی این ڈیسک ) پاکستان کے مختلف علاقے خاص طور پر پنجاب ایک بار پھر شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، سب سے زیادہ وہ علاقے یا ایسی آبادیاں متاثر ہو رہی ہیں، جو دریائے کے کنارے پر آباد ہیں، انہیں علاقوں میں چند سال قبل ماحولیاتی تحفظ اور جدید شہر کے ساتھ لاہور میں راوی اربن منصوبے کا آغاز ہوا تھا، جو آج کل شدید تنقید کی زد میں ہے۔
سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور اُن کی جماعت تحریک انصاف کی حکومت نے 2020 میں لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ایک جدید نیا شہر بسانے کا منصوبہ شروع کیا تھا، جسے پاکستان کا پہلا، گرین اور سمارٹ سٹی قرار دیا گیا تھا، اس منصوبے کے لیے سابقہ حکومت نے راوی اربن ڈولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا تھا۔
منصوبے کی حقیقت
راوی اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے منصوبے کا سنگ بنیاد 7 اگست 2020 کو رکھا گیا تھا اور اس کا افتتاح سابق وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ اس منصوبے کا کل رقبہ ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ پر محیط تھا۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنائے جانے والے شہروں کی طرح اس میں ایجوکیشن سٹی، سپورٹس سٹی اور میڈیکل سٹی بنانے کے ذیلی منصوبے بھی شامل تھے
اس منصوبے کی کئی سیاسی جماعتوں نے مخالفت کی تھی اور مقامی کسانوں نے پروجیکٹ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے کسانوں کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو منصوبے پر مزید کام کرنے سے روک دیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے جنوری 2022 کو دریائے راوی کے کنارے نیا شہر بسانے کے منصوبے کو غیر آئینی قرار دیا تھا، عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ منصوبہ جامع ماحولیاتی اثرات کے جامع تجزیے کے بغیر شروع کیا گیا تھا، جو خلاف قانون ہے۔
منصوبہ خلاف قانون قرار
جسٹس شاہد کریم نے اپنے فیصلے میں زرعی زمین کے حصول کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
انہوں نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ پنجاب حکومت کو 5 ارب روپے کا قرض دو ماہ میں واپس کرے، اور یہ قرار دیا تھا کہ اتھارٹی نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر ماسٹر پلان کے منصوبہ شروع کیا۔
جسٹس کریم نے کہا تھا کہ روڈا ترمیمی آرڈیننس 2021 قانون کی قانونی خامیوں کو دور کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے یہ بھی قرار دیا کہ تہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے سیکشن 4 کے تحت جاری نوٹیفکیشن قانون کے مطابق جاری نہیں کیا گیا، اور زمین کے حصول کے لیے کلیکٹرز نے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔
منصوبہ سوسائٹیز نہیں اسلام آباد جیسا نیا شہر بنانے کا ہے
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے راوی ریور منصوبے پر عملدرآمد روکنے کے احکامات کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے منصوبے کی جگہ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جہاں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عمران خان نے اس وقت وڈیو بیان میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کا نہیں بلکہ اسلام آباد کے بعد ایک نیا منصوبہ بند شہر بنانے کا ہے، اس سے دریائے راوی کو بچایا جائے گا کیونکہ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں گے تاکہ گندے پانی کو دریائے راوی میں شامل ہونے سے پہلے صاف کیا جا سکے۔
عمران خان نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ 20 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ ملیشیا اور دبئی جیسے جدید شہروں کی طرز پر بڑی باریکی سے منصوبہ بندی کے تحت تیار کیا گیا ہے، ان کے اس وڈیو پیغام کے بعد اس وقت کی پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا راوی ریور منصوبے کو بحال کرنے کا حکم
جنوری 2022 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے، حکومت کو ان زمینوں پر تعمیراتی کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی تھی۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ جہاں زمین مالکان کو ادائیگی ہو چکی ہے، وہاں تعمیراتی کام جاری رکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر تنقید
ملک میں سیلاب سے تباہی کے بعد راوی سٹی منصوبے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھرپور تنقید کی جا رہی ہے، صارفیں نے پروجیکٹ کو ماحولیاتی تباہی، سیاسی مفادات اور قانون کی خلاف ورزی پر مشتمل ایک متنازع منصوبہ قرار دیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہاں فلیگ شپ پروگرام راوی اربن ڈولپمینٹ اتھارٹی کی زمینیں سیلاب کی نذر ہو رہی ہیں، اس پر موجودھ اور سابقہ حکومتیں خاموش ہیں، انہوں نے سب کو اس کا ذمیوار قرار دیا۔
اسامہ صدیق نامہ پروفیسر نے اپنی تبصرے میں راوی اربن منصوبے ( رواڈا) کو لالچ اور بدنیتی کی بدترین مثال قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ دریا کے راستے میں آبادیان بسانہ جرم ہے، انہوں نے طنزیہ لکھا کہ اب قدرت نے خود انسداد تجاوزات مہم شروع کردی ہے، تمام ناجائز آسوسائٹیاں بہہ جائیں گی۔