تھائی لینڈ کی سابقہ ملکہ اور موجودہ بادشاہ کی والدہ سری کِٹ 93 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

فہرستِ مضامین

تھائی لینڈ کی سابقہ ملکہ اور موجودہ بادشاہ کی والدہ، ملکہ سری کِٹ 93 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ شاہی خاندان کے مطابق ملکہ سری کِٹ 2019 سے خون میں انفیکشن اور دیگر امراض کے باعث اسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔

ملکہ سری کِٹ نے اپنے مرحوم شوہر، بادشاہ بھومی بون ادیولیادیت کے ساتھ تقریباً سات دہائیوں تک تھائی لینڈ کی سماجی، ثقافتی اور فلاحی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اپنی خوبصورتی، نفاست اور فیشن کے ذوق کے باعث بین الاقوامی سطح پر ایک اسٹائل آئیکون کے طور پر جانی جاتی تھیں۔

ان کی خدمات میں تھائی ریشم کی صنعت کے فروغ اور مقامی دستکاریوں کے احیاء کو خاص مقام حاصل ہے۔ 2012 میں فالج کے بعد وہ عوامی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوگئی تھیں۔ ان کے انتقال پر شاہی خاندان اور درباری عملے کے لیے ایک سالہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

تھائی وزیرِاعظم انوتن چرن ویرکُل نے مادرِ ملکہ کے انتقال کے بعد اپنا ملائیشیا کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا ہے، جہاں اتوار سے منگل تک آسیان رہنماؤں کی سمٹ ہونا تھی۔ حکومتی کابینہ ہفتے کے روز شاہی تدفین کے انتظامات پر غور کرے گی۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملکہ سری کِٹ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تھائی بادشاہ، شاہی خاندان اور عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام تھائی قوم کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے مادرِ ملکہ سری کِٹ کی انسانیت، وقار اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں