تین سال پہلے شروع ہونے والی امریکی سافٹ ویئر کمپنی کی جانب سے گوگل کروم کی خریداری کی پیشکش

فہرستِ مضامین

واشنگٹن ( ویب ڈیسک )  تین سال پہلے شروع ہونے والی امریکی سافٹ ویئر کمپنی کی جانب سے گوگل کروم کی خریداری کی پیشکش کردی ہے۔ اگر یے پیش کش منظور ہو گئی، تو اس سے کمپنی کو کروم کے تین ارب سے زائد صارفین تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔

گوگل کروم ایک ویب براؤزر ہے جو گوگل (Google) نے تیار کیا ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر ویب سائٹس دیکھنے، ویڈیوز دیکھنے، ای میل چیک کرنے، اور دیگر آن لائن سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

جیسے جیسے ایک نئی نسل معلومات حاصل کرنے کے لیے چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی اور پرپلیکسٹی کی جانب راغب ہو رہی ہے، ویسے ویسے ویب براؤزرز دوبارہ اہمیت اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ یہ سرچ ٹریفک اور قیمتی یوزر ڈیٹا تک رسائی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے “رائٹرز” نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کئی سرمایہ کاری فنڈز نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر الفابیٹ گوگل کی پیرنٹ کمپنی) اس پیشکش کو قبول کر لے، تو وہ مکمل فنانسنگ فراہم کریں گے۔

فی الحال گوگل نے کروم کو فروخت کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی ہے، بلکہ اس نے امریکہ کی ایک عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس میں گوگل کو آن لائن سرچ مارکیٹ میں غیرقانونی اجارہ داری قائم کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

گوگل کروم کے خلاف عدالت میں کیس

امریکی محکمہ انصاف  کا کہنا ہے کہ گوگل کروم کی فروخت اس مقدمے کا ایک مناسب حل ہو سکتی ہے۔ امکان ہے کہ اس مقدمے کے متعلقہ اقدامات کے بارے میں ایک وفاقی جج اسی ماہ کے آخر تک فیصلہ سنائے گا۔

پرپلیکسٹی پہلے ہی “کومیٹ”  نامی ایک اے آئی براؤزر چلا رہا ہے، جو صارف کی جانب سے کچھ کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر وہ کروم خریدنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اسے تین ارب سے زیادہ صارفین تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی۔

گوگل کروم کون خرید کرنے کا  خواہشمند

کمپنی کے سی ای او اروند سرینیواس کے مطابق، پرپلیکسٹی کروم کے سورس کوڈ کو اوپن سورس رکھے گی اور ڈیفالٹ سرچ انجن میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گی۔

سان فرانسسکو میں قائم اس اسٹارٹ اپ کے علاوہ بھی کئی کمپنیاں گوگل کروم میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں، جن میں چیٹ جی بھی کی پیرنٹ کمپنی اوپن اے آئی، یاہو، اور نیو یارک کی نجی ایکویٹی فرم “اپالو گلوبل مینجمنٹ” شامل ہیں۔

یہ پرپلیکسٹی کی جانب سے رواں سال کی پہلی حیران کن پیشکش نہیں ہے۔ جنوری میں، اس کمپنی نے  ٹک ٹک کو خریدنے کی پیشکش کی تھی، جب امریکی ریگولیٹرز نے مطالبہ کیا تھا کہ چینی ملکیتی ایپ کو کسی امریکی کمپنی کو فروخت کیا جائے۔

الجزیرہ کے مطابق ان کی جانب سے رابطہ کرنے پر نہ تو گوگل اور نہ ہی پرپلیکسٹی نے فوری طور پر کوئی جواب دیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں