جرمنی کے شہر کولون میں 16 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعے کے بعد پولیس نے ایک روبوٹ اور اسے کنٹرول کرنے والے دو نوجوانوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق واقعہ رات کے وقت کولون کی ایک مصروف سڑک پر پیش آیا، جہاں دو نوجوان ایک روبوٹ کو کنٹرول کر رہے تھے۔ پولیس کو اطلاع ملی کہ روبوٹ نے ایک 16 سالہ لڑکی کو نامناسب انداز میں چھوا اور نازیبا حرکات کیں۔
واقعے کے دوران روبوٹ کے 16 سالہ مالک اور اس کے 19 سالہ ساتھی نے ویڈیو بھی بنائی، جبکہ وہاں موجود دیگر افراد نے بھی اس منظر کو اپنے موبائل فونز میں ریکارڈ کیا۔ بعدازاں یہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر پھیل گئیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں روبوٹ خواتین کے ایک گروپ کی طرف بڑھتا، ایک خاتون سے ٹکراتا اور دوسری خواتین کو گلے لگاتا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیوز میں روبوٹ کو خواتین کے پیچھے جاتے اور مبینہ طور پر نامناسب اشارے کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
پولیس کے مطابق روبوٹ کو کنٹرول کرنے والے دونوں نوجوانوں کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے، تاہم ان کے خلاف ابھی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
روبوٹ نے خود حرکتیں کیں یا اسے کنٹرول کیا جا رہا تھا؟
کولون پولیس نے واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ روبوٹ کی مبینہ نامناسب حرکات پہلے سے اس کے نظام میں پروگرام کی گئی تھیں یا نوجوان اسے موقع پر خود کنٹرول کر رہے تھے۔
پولیس ترجمان کرسٹوف برمل کے مطابق متعلقہ حکام کو اس نوعیت کے واقعے کا اس سے پہلے سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔
پولیس کو فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے قریب واقعے کی اطلاع ملی، جس کے بعد موقع پر پہنچنے والی ٹیم کو روبوٹ ایک گاڑی کی ڈگی میں ملا۔ حکام نے روبوٹ کے ساتھ دونوں نوجوانوں کے موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے۔
کولون پولیس نے اپنے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ پر روبوٹ کی تصویر بھی جاری کی۔ تصویر میں سرخ اور سنہری رنگ کا تقریباً تین فٹ گیارہ انچ بلند روبوٹ زمین پر پڑا دکھائی دیتا ہے۔ اس نے سفید ٹی شرٹ، کالی پتلون، سنہری چین اور دھوپ کا چشمہ پہن رکھا ہے، جبکہ اس کے چہرے پر جعلی مونچھیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔
پولیس کی سوشل میڈیا صارفین کو تنبیہ
واقعے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد کولون پولیس نے سوشل میڈیا پر نامناسب تبصروں اور متاثرہ افراد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا مذاق اڑانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
پولیس نے خبردار کیا کہ ایسے واقعات کو تفریح کا ذریعہ بنانے یا ان کی ویڈیوز بلا سوچے سمجھے شیئر کرنے سے متاثرہ افراد کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ روبوٹ کو کس طرح چلایا جا رہا تھا اور اس معاملے میں اس کے مالکان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔