چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی منظوری کے بعد تقرریوں کا نوٹیفکیشن جاری، فاروق ایچ نائیک اور شیخ آفتاب احمد کے مستعفی ہونے کے بعد دونوں نشستیں خالی ہوئی تھیں۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ خان کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن مقرر کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان اور کمیشن کے چیئرمین جسٹس یحییٰ آفریدی کی منظوری کے بعد دونوں تقرریوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں رہنما پارلیمنٹ میں حکومتی بینچوں کی نمائندگی کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی جبکہ رانا ثناء اللہ سینیٹ کی جانب سے حکومتی نمائندے کے طور پر کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ ان کی نامزدگیاں وزیر اعظم شہباز شریف اور سینیٹ میں قائدِ ایوان و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی جانب سے آئینی طریقہ کار کے تحت کی گئیں۔
دونوں ارکان کے استعفوں کے بعد نئی نامزدگیاں
جوڈیشل کمیشن میں یہ تقرریاں دو ارکان کے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ آفتاب احمد نے کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
فاروق ایچ نائیک نے اپنے استعفے کی وجہ ذاتی مصروفیات بتائی تھی، جبکہ شیخ آفتاب احمد بھی کمیشن سے الگ ہوگئے تھے۔ دونوں نشستیں خالی ہونے کے بعد حکومتی بینچوں کی نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے نئی نامزدگیاں کی گئیں۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی جبکہ مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ کی جانب سے نمائندگی حاصل ہوگی۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کیا کرتا ہے؟
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے جسے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے اہم اختیارات حاصل ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت کمیشن سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججوں کی تقرری کے عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔ کمیشن ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتا ہے۔
26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، جن کے تحت پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی کمیشن میں شامل کیا گیا۔ اس نظام کے تحت حکومتی اور اپوزیشن بینچوں سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کی نمائندگی رکھی گئی ہے۔
کمیشن میں عدالتی ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل، وکلا کی نمائندگی اور پارلیمانی ارکان سمیت دیگر مقررہ ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔
آئندہ اجلاس میں اہم معاملہ زیرِ غور آئے گا
جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 13 اکتوبر کو شیڈول ہے، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچوں کی مدت میں توسیع کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثناء اللہ کی تقرریاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب کمیشن کو اعلیٰ عدلیہ سے متعلق اہم معاملات پر غور کرنا ہے۔
ان تقرریوں کے بعد کمیشن میں حکومتی بینچوں کی پارلیمانی نمائندگی مکمل ہوگئی ہے۔ تاہم، ان تبدیلیوں کے عدالتی تقرریوں سے متعلق آئندہ فیصلوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا انحصار کمیشن کے اجلاسوں میں ہونے والی کارروائی اور فیصلوں پر ہوگا۔