جیکب آباد میں بیوی کو بدکاری کے الزام میں گھر سے نکالنے سے انکار کرنے والا شخص قتل

فہرستِ مضامین

جیکب آباد  ( رپورٹ: شفقت کھوسو) جیکب آباد کے آباد محلہ میں 25 اگست کی رات پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوا، جو سول اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ متوفی کا مرنے سے قبل ایک وڈیو بیان بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

واقعے کے بعد صدر تھانے کے ایس ایچ او سعید جمانی نے (ڈبلیو ٹی این)  کو بتایا کہ جیسے ہی واقعہ کی اطلاع ملی، پولیس اہلکار فوری طور پر سول ہسپتال پہنچے، جہاں مقتول کی بہن کا ابتدائی بیان رکارڈ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق متوفی کی بہن کے بتایا کہ ان کے بھائی پر خاندان کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی پر کاروکاری غیرت کے نام پر بدکاری کا الزام  لگا کر اسے گھر سے نکال دے، لیکن اس نے انکار کیا۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ پنہل لغاری کو بھائیوں اور چچا نے قتل کیا۔ تاہم، یہ الزامات صرف صحافیوں سے گفتگو کے دوران سامنے آئے ہیں، جبکہ تاحال کسی نے پولیس تھانے میں رپورٹ درج نہیں کرائی۔

ایس ایچ او سعید جمانی کے مطابق لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد اسے ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملزمان فرار ہو چکے ہیں۔ اہل خانہ کی طرف سے ایف آئی آر درج کروائی جاتی ہے تو اس کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بیوی کا ساتھ دینے پر بھائی کو قتل گیا

مقتول کی بہن حرمت خاتون نے سول اسپتال جیکب آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھائی پر بھائیوں اور چچا کی طرف سے دباؤ تھا، کہ وہ بیوی کو بدنام کر کے گھر سے نکال  دیا جائے۔ جب اس نے انکار کیا، تو اسے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔

خاتون کے مطابق مقتول کے سوتیلے بھائی اصغر لغاری نے اس پر حملہ کیا، اور وہی مرکزی ملزم ہے۔ اس کے علاوہ اس نے رمضان، سرور، اکبر، ملوک لغاری اور شاہ مراد کو بھی واقعے میں ملوث قرار دیا۔

جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا انہوں نے پولیس کو اطلاع دی ہے تو خاتون نے اعتراف کیا کہ نہیں، میں نے پولیس کو اطلاع نہیں دی، کیونکہ میں اکیلی ہوں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے اپنے پورے خاندان پر قتل کا الزام عائد کیا ہے، لیکن اب تک کوئی فرد رپورٹ درج کروانے تھانے نہیں آیا۔

قتل سے قبل مقتول کی وڈیو منظرِ عام پر

واقعے کے بعد مقتول پنهل لغاری کا ایک ویڈیو بیان منظرِ عام پر آیا ہے، جو کہ ایک منٹ 13 سیکنڈ طویل ہے۔ یہ ویڈیو مقتول کے ورثا نے میڈیا کو فراہم کی ہے۔

قتل سے پہلے رکارڈ کی گئی مبینہ ویڈیو میں پنهل لغاری کا کہنا تھا کہ میرے چچا اور بھائی مجھے کہہ رہے ہیں کہ اپنی بیوی پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگا دو، ورنہ تمہیں قتل کر دیں گے۔

ویڈیو بنانے والا شخص، جو غالباً مقتول کی بیوی کا بھائی یا کوئی قریبی عزیز ہے، ویڈیو کے دوران پنهل  سے مزید سوالات کرتا ہے۔

 ویڈیو میں پنہل کہتا ہے، میرے دونوں بھائی  سٹا  ( جوا) کھیلتے ہیں ، وہ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ بیوی پر الزام لگاؤ، ورنہ تمہیں اور تمہاری بیوی کو قتل کر دیں گے.

جب ویڈیو بنانے والا اس سے پوچھتا ہے کہ تمہارے چچا کا نام کیا ہے؟ تو مقتول جواب دیتا ہے، اکبر لغاری اور اس کا بیٹا اصغر لغاری، میرا بھائی ملوک اور شاہ مراد بھی مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ویڈیو کے آخر میں ویڈیو بنانے والا کہتا ہے اب تمہارہ دعویٰ ختم ہو گیا، ہم لڑکی کی شادی کہیں اور کر دیں گے، یعنی مقتول کی بیوی کی دوسری شادی کر دی جائے گی.

 جس پر وڈیو میں  متاثر شخص جواب دیتا ہے میں سب کچھ بتاؤں گا، تمہیں اور بھائیوں کو بھی۔

بیوی پر الزام کیسے لگا دوں؟

اسی ویڈیو میں ایک جذباتی لمحے پر پنهل لغاری کہتا ہے میرے بھائی اور چچا کہہ رہے ہیں کہ بیوی پر الزام لگا دو، لیکن میری بیوی کا کردار اچھا ہے، تو میں کیسے الزام لگا سکتا ہوں، میں اپنے معصوم بچوں کو قرآن اُٹھا کر بھائیوں اور چچا کے سامنے پیش کروں گا۔

ویڈیو میں کچھ ایڈیٹنگ بھی کی گئی ہے، اور چند حصے غائب بھی ہیں، لیکن موجودہ ویڈیو ہی واقعے کے پیچھے چھپے دباؤ اور تشدد کو واضح کرتی ہے۔

پولیس کا وڈیو پر موقف

ایس ایچ او سعید جمانی نے اس ویڈیو کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم واقعہ کی مکمل تفتیش کر رہے ہیں، اور مقتول کے ویڈیو بیان کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں