نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی کو پاکستان کیلئے ریڈ لائن قرار دے دیا اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی مرتبہ خطاب کرنا ان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر خلیل الرحمان کو مبارکباد دی اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔
اپنے خطاب میں شہباز شریف نے امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مخالف فریق امن کی طرف مائل ہو تو امن کی جانب مائل ہونا چاہیے۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ پیدا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ایسی ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کا تقاضا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے کے دفاع، استحکام اور امن کیلئے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کیلئے انتہائی اہم بحری راستے قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تنازع کے مراکز کے بجائے ممالک کو جوڑنے والے راستوں کے طور پر کھلا رہنا چاہیے۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں غزہ، فلسطین، کشمیر، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور ماحولیاتی تبدیلی سمیت متعدد عالمی و علاقائی معاملات پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔