حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار، معاہدہ نہ ہوسکا

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے، دونوں فریقین کے درمیان اہم معاملات پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان اسپیکر چیمبر سے روانہ ہوگئے، جبکہ فریقین نے مذاکرات کا اگلا اجلاس بلانے کے حوالے سے بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

مذاکرات کے بعد حکومتی وفد کے رکن اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا آئینی کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں دو سے تین مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم اس کے باوجود صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے اور وفاقی پالیسی کے مطابق تعاون پر آمادہ نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف تعاون سے انکار کسی صورت قابل قبول نہیں، اسی وجہ سے معاہدہ طے نہیں پاسکا۔

رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور علاج سے متعلق مطالبات کو معمولی معاملات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاقاتیں قانون اور جیل ضوابط کے مطابق پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی، تاہم ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن کے خدشات سنے گئے اور مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

لانگ مارچ ہمارا حق ہے، اسے نہ روکا جائے: بیرسٹر گوہر

دوسری جانب اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکراتی سیشن ختم ہوگیا ہے اور فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے اگلے روز مذاکراتی اجلاس کی ضرورت پر اتفاق نہیں کیا، تاہم بعض معاملات پر ایک دوسرے کو معلومات فراہم کی جائیں گی اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ اجلاس ہوسکتا ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتی تھی، تاہم لانگ مارچ اپنی جگہ موجود ہے اور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سیاسی جماعت کا حق ہے، اسے روکنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے، جبکہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جس سے صوبے کے عوام میں کشیدگی پیدا ہو۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاست میں کسی چیز کو حتمی نہیں کہا جاسکتا، جبکہ لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہیے۔

عمران خان سے ملاقات کا معاملہ بھی حل نہ ہوسکا

اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے رکن علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔

ان کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالج تک رسائی اور ملاقاتوں سے متعلق معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر نیشنل ایکشن پلان اور ان علاقوں میں آپریشن سے متعلق بھی اپوزیشن کو تحفظات ہیں جہاں متاثرہ افراد موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جاسکتی، تاہم ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات کا سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔

اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے رکن بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے بھی کہا کہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، حالانکہ فریقین کی کوشش تھی کہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں