ڈبلیو ٹی این کے مطابق موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کی شق 121-اے کے تحت بارہویں شیڈول میں ترمیم کرتے ہوئے صوبے بھر میں نیا نظام نافذ کردیا گیا
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اوور اسپیڈنگ، سگنل توڑنے، غلط سمت میں گاڑی چلانے، اوورلوڈنگ اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ سمیت درجنوں خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی ہوگی،نئی فہرست میں گاڑیوں کی اقسام کے حساب سے جرمانے بڑھائے گئے ہیں جن میں موٹر سائیکل، کار/جیپ، پبلک سروس وہیکل اور ہیوی ٹرانسپورٹ شامل ہیں، اوور اسپیڈنگ پر موٹر سائیکل کے لیے پانچ ہزار، کار کے لیے پندرہ ہزار اور ہیوی ٹرانسپورٹ کے لیے بیس ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا آٹھ ڈی میرٹ پوائنٹس بھی شامل ہوں گے۔بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر پچاس ہزار روپے تک جرمانہ اور چھ پوائنٹس مقرر ہیں، لاپرواہ ڈرائیونگ پر پچیس ہزار روپے اور آٹھ پوائنٹس لگیں گے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ ون وہیلنگ، بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے، دھندلے شیشے استعمال کرنے، غلط لین میں گاڑی چلانے اور مسافروں کو چھت پر بٹھانے پر بھی بھاری سزائیں دی جائیں گی، یہ اقدامات شہریوں کی جانیں بچانے اور روڈ سیفٹی یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، حکومت کا مقصد صرف جرمانے وصول کرنا نہیں بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔سگنل توڑنا، اوور اسپیڈنگ اور ون وہیلنگ جیسے اقدامات معمولی نہیں بلکہ جان لیوا حرکات ہیں۔سگنل توڑنا، اوور اسپیڈنگ اور ون وہیلنگ کی وجہ سے نہ صرف ڈرائیور بلکہ دوسرے لوگ بھی خطرے میں پڑتے ہیں،
پی پی رہنما نے مزید کہا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس معطل یا منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔سندھ حکومت ٹریفک مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے اور ٹریفک پولیس کی استعداد بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ڈی میرٹ پوائنٹس سسٹم ہمیں بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کا ریکارڈ رکھنے میں مدد دے گا۔ یہ نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی سے چل رہا ہے،
صوبائی وزیر نے مزید کہا ہے کہ شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہمات بھی چلائی جائیں گی تاکہ قوانین پر عملدرآمد شعوری طور پر ممکن بنایا جا سکے، عوام ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور نئے قوانین پر عمل کریں تاکہ حادثات میں کمی آئے،