اسلام آباد ( بیورو رپورٹ ) پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ایسے دو قوانین کی منظوری دیدی ہے، جس میں ہائی جیکرز کو پناہ دینے اور خواتین کو عوام میں برہنہ کرنے جیسے جرائم پر سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، وزیر قانون اور پارلیامانی امور اعظم نذیر تارڑ نے فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا۔
وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ بل کے تحت فوجداری قوانین میں دو ترامیم لائی جا رہی ہیں، پہلی ترمیم شق 354 اے سے متعلق ہے، یہ شق خاتون کے کپڑے پھاڑنے کی سزا کا احاطہ کرتی ہے، اس قانون کے مرتکب ہونے والے ملزم کو سزائے موت کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔ سابق صدر ضیاالحق کے دور میں خاتون کے کپڑے پھاڑنے پر سزائے موت متعارف کرائی گئی تھی، تاہم اس شق کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ 354 کو 354 اے میں بدلنے پر تھانوں میں رشوت چلتی ہے، ترمیم کے تحت اس جرم پر سزائے موت ختم کر کے سزا کم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری ترمیم سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں لائی گئی شق 402 سی سے متعلق ہے، یہ شق ہائی جیکنگ کے ملزم کی کسی دوسرے شخص سے ملاقات یا تعلقات پر اس شخص کو بھی سزائے موت دینے کی سزا تجویز کرتی ہے، ترمیمی بل کے تحت ہائی جیکنگ کے ملزم سے ملاقات یا تعلقات پر سزائے موت ختم کی جا رہی ہے۔
قانون کیا ہے؟
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یے قانون 1982 میں صابق صدر ضیا الحق کے دور میں پاس ہوا تھا، قانون کے مطابق جب کوئی کسی خاتون پر حملہ کرے یا اس کے ساتھ مجرمانہ زبردستی کرے، اسے عوام میں برہنہ کرے، اسے سزائے موت یا عمر قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی
یو آئی کی خاتون رکن عالیہ کامران نے ترمیمی بل کی مخالفت کی، جس پر ایوان میں رائے شماری کرائی گئی، رائے شماری پر ایوان نے کثرت رائے سے بل منظور کر لیا۔
پاکستان شہریت ترمیمی بل
ایوان میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 پیش کیا، جسے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو شہریت کا حق واپس دلانے کی قانون سازی کر رہے ہیں، کسی دوسرے ملک کی شہریت لینے پر اب پاکستان کی شہریت نہیں چھوڑنی پڑے گی۔
ایوان میں مخبر کے تحفظ کے لیے نگران کمیشن کا بل 2025، پاکستان کوسٹ گارڈ ترمیمی بل 2025، موٹر وہیکلز انڈسٹری ڈیولپمنٹ بل 2025، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2025 اور سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 ترمیمی بل 2025بھی پیش کیے گئے۔