خورشید شاہ اور اہلِ خانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت، نیب نے 19 کروڑ کا حتمی ریفرنس جمع کرا دیا

فہرستِ مضامین

سکھر میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ، سندھ اسمبلی کے اسپیکر اویس شاہ اور ان کے دیگر اہلِ خانہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت میں نیب پراسیکیوٹر اور خورشید شاہ کے وکلا بھی پیش ہوئے۔ نیب کی جانب سے تقریباً پانچ سال اور دس ماہ بعد 19 کروڑ روپے مالیت کا حتمی ریفرنس عدالت میں جمع کرایا گیا، جس میں زرعی زمین، سونے کے زیورات اور دیگر املاک کی پرانی قیمتوں کی تفصیل شامل ہے۔

نیب نے اس سے قبل 2019 میں خورشید شاہ کے خلاف 1 ارب 23 کروڑ روپے مالیت کا عبوری ریفرنس داخل کیا تھا، جس میں 30 سے 40 سال قبل خریدے گئے اثاثوں کی قیمتیں 2019 کے حساب سے ظاہر کی گئی تھیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حالیہ ترامیم کے بعد 19 کروڑ روپے مالیت کا کیس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، لہٰذا یہ کیس احتساب عدالت سے ختم کر کے ایف آئی اے عدالت میں منتقل کیا جائے۔

خورشید شاہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ریفرنس میں ظاہر کی گئی اثاثوں کی مالیت 19 کروڑ سے بھی کم ہے، اس لیے کیس نہ صرف ختم کیا جائے بلکہ ایف آئی اے عدالت میں بھی یہ کیس قابلِ سماعت نہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں