اسلام آباد: قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی گئی، جس کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کردیا ہے۔
قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان چار گھنٹے سے زائد بحث کے بعد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔ قرارداد کی منظوری کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے وکیل شاہ فیصل الیاس نے پشاور ہائی کورٹ میں 86 صفحات پر مشتمل درخواست دائر کی۔ ادھر سینیٹ میں بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد پیش کی گئی، جس پر اپوزیشن نے مخالفت اور احتجاج کیا۔
محمود خان اچکزئی کی حکومت پر کڑی تنقید
قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ملک کی سیاسی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت جن انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی، وہ انتخابات جعلی تھے اور یہ حکومت ملک کے 24 کروڑ عوام کو خوف زدہ کرکے بنائی گئی۔ ان کے اس بیان پر ایوان میں شور شرابا ہوا، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے کارروائی سے بعض الفاظ حذف کروا دیے۔
اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کا واحد قصور یہ ہے کہ وہاں عوام کی طاقت سے حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طاقت کے ذریعے عوام سے حقِ حکمرانی چھیننے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔
محمود خان اچکزئی نے ماضی کے مارشل لاز اور مشرقی پاکستان کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعصب کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست اپنے ہی عوام کے خلاف کھڑی ہوگی تو اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے ملک کے وسائل کے استعمال، بیوروکریسی اور خارجہ پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات اور تنازعات کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔
محمود خان اچکزئی نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ انہیں معاہدے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو کا مؤقف: ایمرجنسی سے پہلے مذاکرات کی کوشش کی گئی
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ کوشش کرتی تو صدرِ مملکت ایمرجنسی سے متعلق سمری پر دستخط نہ کرتے۔
بلاول بھٹو کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ ایمرجنسی جیسے غیرمعمولی آئینی اقدام سے پہلے مذاکرات کو موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے دو نمائندے مذاکراتی عمل میں شریک تھے اور رات گئے تک انہیں اطلاعات مل رہی تھیں کہ مذاکرات کامیاب ہونے کے قریب ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تجویز دی کہ پی ٹی آئی کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی جائے تاکہ سیاسی کشیدگی کم کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔
وزیراعلیٰ کو اپنی سیاست کی فکر تھی: خواجہ آصف
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی اور سکیورٹی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی دہشت گردوں کو واپس لانے کے معاملے پر اسی ایوان میں بحث ہوتی رہی ہے۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو صوبے کے حالات سے زیادہ اپنی سیاست کی فکر تھی اور وہ افغانستان میں موجود ایک شخص کی ہدایات پر عمل کرتے تھے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ صوبے میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ حکومت کے پاس ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔
سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ
قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری، اپوزیشن کے احتجاج اور پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر سیاسی اور قانونی محاذ مزید اہم ہوگئے ہیں۔
حکومت اس اقدام کو صوبے کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری سے متعلق معاملہ قرار دے کر اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ اب اس تنازعے میں پارلیمانی کارروائی کے ساتھ عدالتی کارروائی بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔