اسلام آباد ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) پہلے دریائے توی میں ممکنہ سیلاب پر انتباہ جاری کرنے کے بعد، بھارت نے پیر کے روز دوسری بار پاکستان سے رابطہ کر کے دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے خطرے سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق، اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا اور دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کی صورتحال سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ مزید بتایا گیا کہ بھارت اس سے قبل بھی ماضی میں سیلاب کی صورتحال میں پاکستان کے ساتھ اس نوعیت کا ڈیٹا شیئر کرتا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کا رد عمل
دوسری جانب، پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے حالیہ رابطے سے قبل سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم دو طرفہ کمیشن کے بجائے سفارتی ذرائع سے سیلاب کی وارننگ دی، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔دفتر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ بھارت پر لازم ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کرے۔
دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو “معطل میں رکھنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
دریائے توی پر سیلاب کا انتباہ
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت نے پہلی بار بھی 24 اگست بروز اتوار کی صبح پاکستان کو انتباہ دیا تھا کہ جموں میں دریائے توی میں ممکنہ بڑے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن نے اسلام آباد میں یہ وارننگ پہنچائی، جس کے بعد پاکستانی حکام نے اسی بنیاد پر الرٹ جاری کر دیا۔
پاک بھارت کشیدگی
رواں برس اپریل میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 افراد کے قتل کے واقعے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نئی دہلی نے الزام لگایا کہ یہ حملہ پاکستان کی حمایت یافتہ شدت پسندوں نے کیا، جسے اسلام آباد نے سختی سے رد کر دیا۔
ان بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید عسکری جھڑپیں ہوئیں، جو کئی دہائیوں میں سب سے شدید ترین تھیں۔ بعد ازاں امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی۔
بھارت کا پانی روکنے کا عندیہ
خبر رساں ادارے رائٹرز نے 16 مئی کو رپورٹ کیا کہ بھارت ایسے منصوبے بنانے پر غور کر رہا ہے جن سے پاکستان کو مختص دریاوں میں پانی کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔ بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک معطل رکھے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کو قابلِ یقین اور ناقابلِ واپسی طور پر ختم نہ کرے۔
اس کے برعکس، پاکستان کا موقف ہے کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو ‘جنگی اقدام’ سمجھا جائے گا۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کے استعمال پر اختلافات کو حل کرنے کے لیے ورلڈ بینک کی ثالثی میں ستمبر 1960 میں یہ معاہدہ طے پایا تھا۔
اس معاہدے کے مطابق بھارت کو تین مشرقی دریاؤں کا پانی استعمال کرنے کا حق ملا، جن میں ستلج، بیاس اور راوی شامل ہیں، پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم، اور چناب کا زیادہ تر پانی ملا۔
پاکستان کا موقف ہے کہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ کوئی بھی فریق اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کر سکتا۔