پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مودی سرکار دریائے سندھ کا پانی روکنے کے اعلان سے باز نہیں آرہی، لیکن سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کو اس کے حق کا پانی دینا پڑے گا۔
حیدرآباد میں خان بہادر حسن علی آفندی پارک کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستانیوں کے لیے لائف لائن ہے، اس معاملے پر سندھ کے لوگوں کا ساتھ چاہیے۔
بلاول نے کہا کہ تمام پاکستانی اس پرآواز اٹھائیں، یہ کروڑوں عوام کی زندگی کا سوال ہے۔ہمیں پانی کی عالمی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے زراعت کے لیے ڈریپ ایریگیشن سمیت تمام جدید طریقے اپنانے ہوں گے، جدید تکنیکس اپنا کر ہم پانی کو بچاسکتے ہیں۔
ایف بی آر کی نااہلی کی سزا صوبوں کو نہ دی جائے
انہوں نے کہا کہ صوبوں کو ان کا حق دینا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ نئے مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی) کے لیے فوری طور پر اجلاس بلایا جانا چاہیے، آئین کے تحت ہر 5 سال بعد این ایف ایوارڈ دینا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس جمع نہ کرنے کی سزا صوبوں کو نہ دی جائے، اسلام آباد میں بیٹھے ‘بابے’ اپنی ناکامی کی سزا صوبوں کو نہ دیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت یا کسی سیاسی جماعت نے ہم سے 27 ویں آئینی ترمیم کے لیے رابطہ نہیں کیا، 27 ویں ترمیم کی افواہیں چل رہی ہیں، بطور سیاسی جماعت ہم سے حکومت نے اب تک اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
اقوام متحدہ سے بھی بی ایل اے اور مجید برگیڈ کو دہشتگرد ڈکلیئر کرانے کی کوشش کریں گے
بلاول بھٹو نے امریکہ کی طرف سے بی ایل اے اور مجید برگیڈ کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد تنظیمیں عوام کو نشانہ بناتی ہیں، کوشش ہوگی کہ اقوام متحدہ سے بھی ان دہشتگرد تنظیموں پر پابندی لگوائیں۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ امریکا نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد قرار دے کر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، جو بڑی کامیابی ہے۔
یہ تنظیمیں مزدوروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے حالیہ پاکستان-بھارت تنازع میں کھل کر مودی کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ کا منصوبہ عالمی اداروں اور این جی اوز کی مدد سے مکمل کر رہے ہیں، جس کے تحت سندھ بھر میں لاکھوں خاندانوں کو گھر بناکر دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کرپشن سے پاک اور اتنا شفاف اور ڈیجیٹلائز ہے کہ اسے کوئی بھی آن لائن چیک کرسکتا ہے، یہ منصوبہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن روٹی، کپڑا اور مکان کے مطابق ہے۔
حیدرآباد میں ایئرپورٹ ہونا چاہیے
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر میں ایئرپورٹ ہونا چاہیے، تاہم یہ وفاق کا کام ہے، سندھ میں پرانے ایئرپورٹس بند کیے گئے ہیں، حیدرآباد میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قیام کے لیے وزیر اعظم کے ساتھ بات کروں گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر کامیابی نہ ملی تو سیالکوٹ کی طرح ہم بھی حیدرآباد میں ایئرپورٹ قائم کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ منصوبہ مکمل ہونے سے حیدرآباد کے عوام کو سفر میں سہولت میسر آئے گی، پہلی دفعہ حیدرآباد کی ترقی کو تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ماضی میں الگ الگ جماعتوں کی بلدیاتی اور صوبائی حکومتیں ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں ہوسکی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں عوامی مفاد میں کام کرنے کے بجائے نفرت پھیلانے کا کام کرتی رہی ہیں، تاہم اس بار عوام نے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو فتح دلواکر ہم پر یہ فرض کر دیا ہے کہ ہم عوام کو سہولتیں دیں۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میئر حیدرآباد اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے عوامی مفاد کی کئی اسکیمیں شروع کی ہیں۔
حیدر آباد میں آئندہ دو سال میں مزید منصوبے مکمل ہوجائیں گے، جس کے بعد ہم یہاں کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں بہتری لانے کے قابل ہوجائیں گے۔