دیگر صوبوں کے امیدواروں کو بھرتی کرنے کے الزامات: سندھ پبلک سروس کمیشن کی وضاحت

فہرستِ مضامین

کراچی ( نمائندہ ڈبلیو ٹی این ) سندھ پبلک سروس کمیشن نے سندھ میں دیگر صوبوں کے امیدواروں کو بھرتی کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ڈومیسائل اور دیگر سرٹیفکیٹس کی جانچ پڑتال کا اختیار نہیں ہے، ایس پی ایس سی کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے، ادارے نے جھوٹی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی عندیہ دیدیا ہے۔

سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) حکومتِ سندھ کا ایک خود مختار ادارہ ہے جو صوبے میں سرکاری ملازمتوں کے لیے میرٹ کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کرتا ہے، ادارہ گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی آسامیوں کے لیے تحریری امتحانات، انٹرویوز اور سلیکشن کرتا ہے۔

کمیشن کی وضاحت

سندھ پبلک سروس کمیشن کے سیکریٹری کی جانب سے وضاحت سامنے آئی ہے کہ ایس پی ایس سی بھرتی کا عمل صرف سندھ ڈومیسائل امیدواروں کے لیے ہے، دیگر صوبوں کے امیدوار قبول نہیں کیے جاتے۔

ایس پی ایس سی کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن کو ڈومیسائل اور دیگر سرٹیفکیٹس کی جانچ پڑتال کا اختیار نہیں ہے،

ڈومیسائل اور پی آر سی کا اجرا صرف ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کا اختیار ہے۔

 سیکریٹری ایس پی ایس سی کا مزید کہنا ہے کہ امیدواروں کی ڈگری و ڈومیسائل کی تصدیق بھی ایس پی ایس سی نہیں کرتا، متعلقہ محکمے ذمہ دار ہیں، امیدواروں کے اسناد کی جانچ انتظامی محکموں کی ذمہ داری ہے۔

سیکریٹری کی مزید وضاحت کی کہ آفر لیٹر سے پہلے تمام کوڈل کارروائیاں متعلقہ انتظامی محکمے مکمل کرتے ہیں،

آسامیوں کی تشہیر اور امتحانات ریگولیشنز 2023 کے تحت کی جاتی ہیں، ۔

سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ ایس پی ایس سی بھرتی عمل میں اہلیت کے معیار کی مکمل پاسداری ہے،ایس پی ایس سی کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے،  ادارے نے انتباہ کیا ہے کہ جھوٹی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کیا ہے؟

سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) ایک قانونی ادارہ ہے جسے سندھ حکومت کے لیے اعلیٰ سول سروس کے عہدوں پر بھرتی کے لیے امیدواروں کے امتحان، انتخاب اور سفارش کا اختیار حاصل ہے۔

ایس پی ایس سی میں مرکزی کردار اس کے چیئرمین کا ہوتا ہے، جو عام طور پر سول سرونٹ ہوتے ہیں، کمیشن کے چار میمبر ہوتے ہیں، ادارہ مختلف آسامیوں کے لیے اشتہارات کے ذریعے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرتا ہے۔

 اس عمل میں ایک ابتدائی تحریری (اسکریننگ ٹیسٹ)، پھر تحریری امتحان اور آخر میں انٹرویو شامل ہوتا ہے۔ یہ عمل نسبتاً طویل ہوتا ہے اور بعض اوقات نتائج کے اجرا میں کئی ہفتے یا مہینے لگ جاتے ہیں۔

ادارے پر الزامات

سندھ پبلک سروس کمیشن پر بعض اوقات میں دیگرصوبوں کے امیدواروں کی بھرتی اور مبینہ طور پر رشوت کے عیوض امیدواروں کی بھرتی کے حوالے سے الزامات سامنے آئے، تاہم ادارے نے الزامات کی سختی سے تردید کی۔

حال ہی میں سندھ پولیس میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونی والی اسسٹنٹ سب انسپیکٹر ( اے ایس آئی ) کی بھرتی میں 60 لاکھ روپے کی رشوت کا الزام سامنے آیا تھا تاہم ادارے کی جانب سے الزامات کی سختی سی تردید کی گئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں