بیجنگ ( ویب ڈیسک ) بیجنگ میں منعقد ہونے والے پہلے ورلڈ ہیومینوئڈ روبوٹ گیمز کا اختتام ہو گیا، جس میں 500 سے زائد روبوٹس نے شرکت کی۔
یہ روبوٹس کبھی لڑکھڑاتے ہوئے گرتے نظر آئے اور کبھی اپنی حقیقی صلاحیتوں کی جھلک دکھاتے ہوئے۔ ان مقابلوں میں 100 میٹر رکاوٹ دوڑ سے لے کر کنگ فو جیسے ایونٹس شامل تھے۔
ان مقابلوں میں 16 ممالک سے تعلق رکھنے والی 280 روبوٹکس ٹیموں نے حصہ لیا۔ یہ ایونٹس نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں منعقد ہوئے، جو 2022 کے سرمائی اولمپکس کے لیے بنایا گیا تھا۔
مقابلوں میں روایتی کھیلوں جیسے کہ ایتھلیٹکس اور باسکٹ بال کے ساتھ ساتھ ادویات کی درجہ بندی اور صفائی جیسے عملی کام بھی شامل تھے۔
مستقبل قریب میں انسان جیسے روبوٹ

18 سالہ تماشائی چن روی یوان کا کہنا تھا مجھے یقین ہے کہ آئندہ 10 سالوں میں روبوٹس انسانوں کے برابر ہو جائیں گے۔تاہم، فی الحال انسانی ایتھلیٹس کو زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ابتدائی مقابلوں میں سے ایک، پانچ کے مقابل پانچ فٹبال میں سات سالہ بچوں کے سائز کے 10 روبوٹس نے شرکت کی، لیکن اکثر وہ ایک دوسرے سے الجھتے رہے یا اکٹھے گر جاتے۔
ایک اور ایونٹ 1,500 میٹر کی دوڑ میں چینی روبوٹ کمپنی یونٹری کے ہیومینوئڈ روبوٹ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وہ اپنے تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑ کر اچھی رفتار سے دوڑا، سب سے تیز روبوٹ نے یہ دوڑ 6 منٹ 29.37 سیکنڈ میں مکمل کی، جو کہ انسانوں کے عالمی ریکارڈ 3:26.00 سے خاصا سست ہے۔
ایک مقابلے میں ایک روبوٹ تیزی سے دوڑتے ہوئے ایک انسانی آپریٹر سے ٹکرا گیا۔ روبوٹ تو کھڑا رہا، لیکن انسان زمین پر گر گیا، خوش قسمتی سے کوئی چوٹ نہیں آئی۔
انسان جیسے روبوٹس پر پہلا عالمی فوکس
منتظمین کے مطابق، اگرچہ کئی دہائیوں سے روبوٹ مقابلے منعقد ہو رہے ہیں، لیکن 2025 کے یہ عالمی گیمز پہلی بار خاص طور پر انسان جیسے جسم رکھنے والے روبوٹس پر مرکوز تھے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے مطابق، چین نے ہیومینوئڈ روبوٹس کو اپنی قومی حکمت عملی کا مرکز قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس شعبے میں اپنی مہارت اور عالمی مسابقت کو دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہے۔
چین نے مارچ 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ (ایک ٹریلین یوان تقریباً 139 ارب امریکی ڈالر ) کا فنڈ قائم کرے گا تاکہ ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس خصوصاً روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مالی معاونت کی جا سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چین پہلے ہی صنعتی روبوٹس کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔
اپریل میں بیجنگ میں دنیا کی پہلی ہیومینوئڈ روبوٹ ہاف میراتھن کا انعقاد بھی کیا گیا۔